اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرات کم ہونے کے بعد اعلان کردہ جنگ بندی کو دنیا بھر خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی مبصرین اس عمل میں پاکستان کے کردار کو اہم سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم دی ٹرتھ پر اعلان کیا کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا ہے۔
اس اعلان کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل آئندہ پندرہ روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا۔ ایران کے مطابق اس نے اپنا دس نکاتی منصوبہ امریکہ کو پاکستان کے ذریعے پیش کیا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سے متعلق خوشخبریاں شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔
عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم
پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے جنگ بندی کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم سفارتی کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ۔
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اس بحران کے حل کے لیے پاکستان، ترکی اور مصر سمیت دیگر ممالک کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البیس نے بھی کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک بشمول پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔
امریکی کانگریس کی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور کے رینکنگ رکن ریگوری میکس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے امریکی فوجیوں اور شہریوں کی جانیں بچیں گی اور اس نتیجے تک پہنچنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹیو گٹرس نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کی کوششیں مسلم یکجہتی اور عالمی ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہیں۔
مبصرین کی رائے
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل سے وابستہ صحافی سداند دومے نے اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے جس پر اہم عالمی دارالحکومتوں کو اعتماد ہے۔
تجزیہ کار مائیکل کگل مین کے مطابق پاکستان نے کئی برسوں میں اپنی سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے اور اس اقدام سے یہ تاثر غلط ثابت ہوا ہے کہ اسلام آباد پیچیدہ عالمی تنازعات میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔
کشمیری نژاد برطانوی مصنف مرزا وحید نے اس جنگ بندی کو نئے عالمی منظرنامے کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا ملک جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، اس نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے معروف صحافی سرل امیڈا نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ “عاصم اور شہباز… دنیا کو بچا لیا۔”
عالمی مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔