نصیر میمن
سندھ میں پانی کی صورتحال تشویش ناک حدوں سے آگے بڑھ کر ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ مضمون لکھتے وقت 5 جون کے دن بیراجوں پر پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا تھا۔ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ مزید کم ہو کر 74,500 کیوسک رہ گیا تھا۔ 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق آج کے دن سندھ اور بلوچستان کو گڈو بیراج پر مجموعی طور پر 108,340 کیوسک پانی ملنا چاہیے تھا۔ اس طرح گڈو پر سندھ اور بلوچستان کو اپنے حصے سے 31 فیصد کم پانی مل رہا تھا۔
گزشتہ سال اسی دن گڈو بیراج پر تقریباً دوگنا پانی بہہ رہا تھا۔ آج 74,600 کیوسک کے مقابلے میں گزشتہ سال تقریباً 143,000 کیوسک پانی موجود تھا۔ دوسری جانب ان حالات میں تربیلا ڈیم میں 29 ہزار کیوسک اور منگلا ڈیم میں 16,700 کیوسک پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران دریائے سندھ سے جہلم۔چناب زون کو لنک کینالوں کے ذریعے 28,500 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، حالانکہ اس زون کو منگلا ڈیم سے پانی دیا جا سکتا ہے۔
لنک کینالوں میں پانی کی مقدار روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح تربیلا اور منگلا دونوں ڈیموں میں پانی کے ذخائر میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں اس وقت خریف کی فصلوں کے لیے پانی کی شدید ضرورت ہے۔ اس وقت تربیلا ڈیم میں ایک ملین ایکڑ فٹ اور منگلا ڈیم میں ڈھائی ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ موجود ہے۔ لنک کینالوں کو اس وقت تک بند رکھا جانا چاہیے جب تک گڈو بیراج پر سندھ کو اس کے حصے کا پانی ملنا شروع نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر سندھ میں خریف کی فصلیں شدید متاثر ہوں گی۔
سندھ حکومت کو اب روایتی خط و کتابت سے آگے بڑھ کر اس مسئلے کو اعلیٰ سطح پر اٹھانا ہوگا، ورنہ سندھ کو جون کے مہینے میں درکار پانی نہیں مل سکے گا۔
اپریل کے آغاز میں ارسا کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں خریف کے موسم کے دوران دریائی نظام میں اوسطاً 15 فیصد پانی کی کمی کا تخمینہ لگایا گیا تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ڈیموں میں پانی موجود ہونے کے باوجود کمی 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ خدشہ ہے کہ جون کے دوسرے عشرے میں یہ کمی مزید بڑھ جائے گی کیونکہ اس وقت سندھ اور بلوچستان کی مشترکہ طلب 135,000 کیوسک سے تجاوز کر جائے گی۔
گزشتہ روز تربیلا سے اخراج بڑھا کر ایک لاکھ کیوسک کیا گیا، لیکن اس پانی کو گڈو تک پہنچنے میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا۔ راستے میں لنک نہروں، ضیاع اور مبینہ چوری کے بعد گڈو تک صرف 75 سے 80 ہزار کیوسک پانی ہی پہنچ پائے گا۔ اس دوران اگر دریائے کابل کے بہاؤ سے کچھ مدد مل بھی گئی تو مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ کیوسک پانی ہی پہنچے گا اور پانی کی قلت کا تناسب برقرار رہے گا۔
اس صدی کے آغاز سے ارسا ہر سال پانی کی کمی کا اعلان کرتے ہوئے پانی کی تقسیم 1991ء کے معاہدے کے بجائے سہ فریقی فارمولے کے تحت کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سندھ کو اپنے حصے سے کم پانی ملتا ہے۔ اس سال تو حیران کن بات یہ ہے کہ مئی اور جون میں ڈیموں میں پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ مون سون کے موسم میں ممکنہ سیلابی ریلوں کے لیے ڈیموں میں گنجائش رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈیموں میں ذخیرہ اندوزی جولائی میں کی جانی چاہیے تھی۔
سندھ کو اس وقت گنے، کپاس، دھان، آم اور موسمی سبزیوں کے لیے پانی درکار ہے۔
یاد رہے کہ اس سال پانی کی صورتحال گزشتہ سال جیسی سنگین نہیں تھی۔ گزشتہ سال مارچ کے وسط تک ڈیم تقریباً خالی ہو چکے تھے۔ گزشتہ سال کی خشک سالی کے مقابلے میں اس سال موسمی صورتحال کافی بہتر رہی ہے۔ مارچ کے وسط سے ملک کے شمالی علاقوں سمیت پورے ملک میں اچھی بارشیں ہوئیں۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث بالائی پہاڑی علاقوں سے پانی کے بہاؤ دریاؤں میں شامل ہوئے، جس سے ڈیموں کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں کافی
بہتر رہی۔
گزشتہ سال اپریل میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے دریائی نظام میں 43 فیصد پانی کی کمی کا اعلان کیا تھا اور اپریل کے دوران صرف پینے کے پانی کے لیے نہروں میں پانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں محکمہ موسمیات نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں خشک سالی کی پیش گوئی کی تھی۔ سندھ کے بیراجوں پر ابتدائی خریف کے اہم موسم میں 50 فیصد سے زائد پانی کی قلت موجود تھی۔ اس کے باوجود لنک کینالوں کے ذریعے چناب۔جہلم زون کو پانی فراہم کیا جاتا رہا، جس پر ارسا میں سندھ کے اُس وقت کے رکن احسان لغاری نے دریائے سندھ سے لنک کینالوں میں پانی منتقل کیے جانے پر سخت اعتراضات بھی اٹھائے تھے۔
پنجاب کے مقابلے میں سندھ میں خریف کی کاشت پہلے شروع ہو جاتی ہے، اس لیے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں، خصوصاً زیریں سندھ (لاڑ) میں پانی کی کمی دھان، گنا، آم اور سبزیوں کی فصلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ اس سال مغربی موسمی نظاموں کی وجہ سے مسلسل بارشیں ہوئیں، جس سے ڈیموں میں پانی کے ذخائر کی سطح میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اپریل کے پہلے ہفتے میں تربیلا اور منگلا ڈیموں میں اتنا پانی کبھی نہیں آیا جتنا اس سال آیا ہے۔
تاہم اس سال موسمی پیش گوئیاں بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ “ایل نینو” کے موسمی اثرات کے باعث ملک میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ موسمیاتی اندازوں کے مطابق گلگت بلتستان میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس کے نتیجے میں گلیشیئرز کے زیادہ تیزی سے پگھلنے کا امکان ہے۔ اس سال شمالی علاقوں میں برف باری دیر سے ہوئی، جس کے باعث برف ابھی نسبتاً نرم اور کچی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ اس برف کے تیزی سے پگھلنے سے دریائے سندھ میں بڑے آبی ریلے آنے کا امکان موجود ہے۔
موسمیاتی پیش گوئیوں کے مطابق اس سال درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں ہوگا۔ درجہ حرارت کے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ کے تمام اضلاع بھی معمول سے زیادہ گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ مئی کے آخری دنوں اور جون کے آغاز میں سندھ میں شدید گرمی دیکھی گئی۔ ایک دن دادو میں درجہ حرارت 52.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شمالی علاقوں میں آنے والے دنوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت ہی دریائے سندھ اور اس کی معاون پہاڑی ندیوں کے بہاؤ کا تعین کرتا ہے۔ تاہم اس سال کم برف باری کے باعث پانی کے بہاؤ کم رہنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ مارچ کے اختتام تک موسم سرما کی برف باری گزشتہ 20 سالہ اوسط کے مقابلے میں 30 فیصد کم رہی تھی۔
ایسی صورتحال میں جبکہ دریائی بہاؤ اور بارشوں دونوں کے کم ہونے کا خدشہ ہے، دریائے سندھ کے آخری حصے میں واقع ہونے کے باعث سندھ شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ جب فصلوں کی کاشت کے اہم وقت میں ڈیموں میں پانی ذخیرہ کیا جائے اور لنک کینالوں میں منتقل کیا جائے تو سندھ کے لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں دریائی نظام کے آخری حصے میں واقع ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔
ارسا میں سندھ کے نئے رکن انجینئر شفقت ودھونے اس معاملے پر اندرونِ ادارہ آواز اٹھائی ہے، لیکن ہمیشہ کی طرح ارسا میں سندھ کے مؤقف کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت اس وقت وفاقی حکومت کی اتحادی ہے، مگر اس کے باوجود سندھ کو اپنے حصے کا پانی نہیں مل رہا۔ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ معاملہ صرف ارسا کے ایک رکن کے دائرۂ اختیار سے آگے بڑھ چکا ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر اعلیٰ سطح پر سنجیدگی سے اٹھائے۔
جون کے مہینے میں پانی نہ ملنے کی صورت میں سندھ کی خریف فصلوں کی پیداوار کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ صوبے میں پہلے ہی گندم کی قیمتوں کا بحران جاری ہے۔ خلیجی جنگ کے باعث مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ تو سرکاری اعداد و شمار ہیں، زمینی حقائق اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ ایسے بحرانی حالات میں اگر خریف کی فصلیں متاثر ہوئیں تو سندھ کو شدید معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ وقت رسمی بیانات دینے کا نہیں بلکہ فوری اقدامات کرنے کا ہے۔ اس صورتحال کے سیاسی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ سندھ حکومت پہلے ہی اپنی کارکردگی کے باعث عوامی تنقید کی زد میں ہے، اور پانی کے مسئلے پر اس کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت نظر نہ آنے کے باعث سندھ کے عوام میں محرومی اور بے بسی کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے اور اسے سندھ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کوئی احساس دکھائی نہیں دیتا۔ اگر سندھ وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے جائز حصے کا پانی حاصل نہیں کر سکتا تو پھر اس شراکت کا فائدہ کیا ہے؟
سندھ حکومت کو وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی چشمہ بیراج کے بجائے گڈو بیراج پر فراہم کیا جائے، کیونکہ چشمہ سے گڈو تک پانی پہنچنے میں تقریباً پانچ دن لگ جاتے ہیں اور عام شکایات کے مطابق تونسہ اور گڈو بیراج کے درمیان پانی کی بڑی مقدار چوری بھی ہو جاتی ہے۔
مزید یہ کہ سندھ حکومت کو پانی کے اس بحران کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانا چاہیے۔ بدقسمتی سے اس اہم آئینی ادارے کا سہ ماہی اجلاس باقاعدگی سے نہیں بلایا جاتا۔ آئین کے مطابق کونسل کا اجلاس ہر تین ماہ بعد ہونا چاہیے، مگر آخری اجلاس 29 اپریل 2025ء کو منعقد ہوا تھا، جب سندھ میں متنازع نہروں کے خلاف دھرنے جاری تھے۔
سندھ کے پانی سے متعلق کئی دیگر معاملات بھی مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہیں، لیکن ان پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ سندھ کو یہ معاملہ بھی کونسل کے سامنے اٹھانا چاہیے کہ گڈو بیراج پر سندھ اور بلوچستان کے حصے کا پانی چناب۔جہلم زون کی طرف منتقل نہ کیا جائے۔ پنجاب کی موجودہ ضروریات کے لیے پانی منگلا ڈیم سے فراہم کیا جا سکتا ہے۔ منگلا ڈیم میں پہلے ہی ڈھائی ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ موجود ہے، اس کے باوجود مزید پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے، جو سندھ کے ساتھ کھلی ناانصافی کے متراف ہے۔
(جناب نصیر میمن آبپاشی، ماحولیات سمیت معاشی و اقتصادی کے موضوعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا یہ مضمون ۹ جون کے سندھی روزنامے کاوش میں شائع ہوا، انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے یہ مضمون سندھی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے)