سندھ اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت، زرعی معیشت، ماحولیاتی نظام اور شہری آبادی کو خطرہ لاحق

سکھر (رپورٹ: تاج رند) ملک میں پانی کی تقسیم کے نظام پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ سندھ اور بلوچستان میں پانی کی شدید قلت نے زرعی معیشت، ماحولیاتی نظام اور شہری آبادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ کے مختلف بیراجوں پر پانی کی آمد و تقسیم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

کوٹری بیراج پر سنگین قلت، انڈس ڈیلٹا خشک

محکمہ آبپاشی کے مطابق کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 11 ہزار 455 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ 1991 کے پانی معاہدے کے تحت اس مقام پر 26 ہزار 900 کیوسک پانی درکار ہوتا ہے۔ اس طرح تقریباً 57 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔

کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی کا اخراج مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے سندھ کے جنوبی حصے میں واقع 280 کلومیٹر سے زائد پر ساحلی علاقے پر مشتمل انڈس ڈیلٹا شدید ماحولیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق ریتیلے علاقے پھیلنے سے پرندوں اور جنگلی حیات کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

سکھر بیراج پر بھی بحران

سکھر بیراج پر بھی پانی کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں آمد 56 ہزار 620 کیوسک جبکہ اخراج 18 ہزار 500 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

لیفٹ اور رائٹ بینک کینالز کو مجموعی طور پر 37 فیصد تک کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

نارا کینال: 18 فیصد کمی
خیرپور فیڈر ایسٹ: 40 فیصد کمی
روہڑی کینال: 34 فیصد کمی
خیرپور فیڈر ویسٹ: 40 فیصد کمی
نارتھ ایسٹ (کھیرتھر) کینال: 55 فیصد کمی
دادو کینال: 80 فیصد تک کمی
ماہرین کے مطابق دادو کینال میں شدید کمی کے باعث شمالی سندھ میں چاول کی بوائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

گڈو بیراج: 34 فیصد کمی برقرار

گڈو بیراج پر بھی پانی کی مجموعی صورتحال غیر معمولی ہے، جہاں آمد 78 ہزار 664 کیوسک اور اخراج 58 ہزار 146 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
گڈو بیراج سے نکلنے والی اہم نہریں، جن میں گھوٹکی فیڈر، بیگاری سندھ کینال اور ڈیزرٹ پٹ فیڈر شامل ہیں، کو معمول سے کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کو پانی کی فراہمی میں کمی

رپورٹ کے مطابق سندھ میں موجود ریگولیٹری سسٹمز کے ذریعے بلوچستان کو بھی اس کے حصے سے کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ قمبر-شہدادکوٹ کے گڑنگ ریگولیٹر سے بلوچستان کو 2 ہزار کیوسک کے بجائے صرف 600 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، یعنی 70 فیصد سے زائد کمی۔

لنک کینالز پر تنازع

پانی کے ماہرین کے مطابق چشمہ-جہلم (CJ) اور تونسہ-پنجند (TP) لنک کینالز کے ذریعے اضافی پانی کی ترسیل پر سندھ میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کا مؤقف ہے کہ ان متنازع لنک کینالز کے ذریعے پنجاب کے بعض حصوں کو اضافی پانی مل رہا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں قلت بڑھ رہی ہے۔ ارسا میں سندھ کے سابق ممبر احسان لغاری کا کہنا ہے کہ یہ سندھ میں خریف کیلئے پانی نہیں ہے جبکہ ڈیموں میں ربیع سیزن کیلئے پانی ذخیرہ کیا جا رہا جو کہ 1991 آبی معاہدے کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ صوبوں کی آبی ضرورت کے بعد ہی ڈیم بھرے جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پانی کی موجودہ صورتحال سے لگتا ہے کہ کوٹری بیراج جون کا پورا مہینہ پانی کیلئے ترسے گا، کیونکہ تونسہ بیراج پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک تک ہوگا تب 22 دن کے بعد کوٹری بیراج پر پانی پہنچے گا۔

جبکہ ماہر آبپاشی و ماحولیات نصیر میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں پانی کی شدید قلت کے وقت پنجاب کی جانب سے جہلم ڈویزن کیلئے سی جے اور ٹی پی متنازع نہروں سے 28 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی حاصل کرنا سندھ کے ساتھ آبی ناانصافی ہے، حکومت سندھ کو خط وکتابت سے آگے بڑھ کر ارسا کے ساتھ سخت احتجاج کر کے سندھ میں پانی کی قلت ختم ہونے تک پنجاب کے متنازع نہروں میں پانی کا اخراج بند کرانا چاہیے۔

ماہری آبپاشی عبدالعزیز سومرو کے مطابق سندھ اور بلوچستا ن میں پانی کی شدید قلت کے باعث زرعی اور ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات کا سامنہ ہے اس کے برعکس پنجاب پانی کی قلت میں شامل ہونے کے بجائے متنازع چشمہ-جہلم اور تونسہ-پنجند نہروں کے ذریعے اضافی پانی حاصل کر رہا ہے۔

زرعی اور ماحولیاتی اثرات

ماہرین کے مطابق سندھ میں جاری پانی بحران کے باعث:
چاول، کپاس اور گنے کی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں
آم، کھجور اور لیموں کے باغات کو نقصان پہنچ رہا ہے
انڈس ڈیلٹا میں نمکین پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے
جنگلی حیات اور پرندوں کی بقا کو خطرہ لاحق ہے
ملک میں جاری پانی بحران ایک بار پھر وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے فقدان کو نمایاں کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا حل صرف شفاف پانی مینجمنٹ، 1991 معاہدے پر سخت عمل درآمد اور ارسا کے کردار کو مؤثر بنانے سے ہی ممکن ہے۔

کراچی کی پانی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

کوٹری بیراج پر پانی کی شدید کمی کے باعث کراچی کو پانی فراہم کرنے والے نظام پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں۔ سندھ کے دارالخلافہ اور آبادی وایراضی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سےبڑے شہر کراچی کیلئےحب ندی کے بعددریائے سندھ پانی فراہمی کا دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ کوٹری بیراج سے کلری بگھار نہر کے ذریعے کینجھر جھیل میں پانی پہنچاتا جاتا جہاں سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے ذریعے کراچی شھر کو پینے کا میٹھا پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ مستقبل میں کے فور اسکیم بھی کینجھر جھیل سے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوٹری بیراج پر یہی صورتحال برقرار رہی تو کراچی میں پانی کی قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں