ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ کی سزا آئین و انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان بار کونسل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ل ماہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو دی جانے والی سزا پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے اس فیصلے کو منصفانہ سماعت کے حق، آئینی ضمانتوں اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دے دیا ہے۔
بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی باقاعدہ قانونی وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، لیکن انہیں کسی بھی قانونی اختیار یا ٹھوس جواز کے بغیر اپنے موکلین کی نمائندگی کرنے کے حق سے محروم کیا گیا۔

سرکاری وکیل کے تقرر پر اعتراض: مذمتی بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیل حکام کی جانب سے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ کسی سرکاری طور پر مقرر کردہ وکیل کی خدمات حاصل نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کے اپنے منتخب اور مقرر کردہ وکلاء پہلے سے موجود ہیں۔ تاہم، ان کی واضح خواہش اور ہدایات کے برعکس زبردستی ایک سرکاری وکیل مقرر کر دیا گیا، جو کہ قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی کارروائی پر سوالات: اعلامیے کے مطابق، ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی جانب سے متعلقہ جج پر اعتراض اٹھایا گیا تھا اور اس سلسلے میں عدالت کے روبرو باقاعدہ درخواست بھی پیش کی گئی، لیکن عدالت نے اس درخواست کو ریکارڈ کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں، اس اقدام کو آئینی درخواست کے ذریعے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا گیا اور فوری سماعت کے لیے متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئیں، لیکن صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت نے اس پر فوری سماعت کی استدعا قبول نہیں کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان اہم آئینی اور قانونی نکات پر فیصلہ ہونے سے قبل ہی جلدی میں سزا سنا دی گئی۔

بلوچستان بار کونسل کا مؤقف ہے کہ جب کسی ملزم کی طرف سے جج یا کارروائی پر اعتراضات اٹھائے جائیں، منتخب وکیل کے ذریعے نمائندگی کا حق مانگا جائے

عدالتی نظام پر اعتماد کو ٹھیس: بلوچستان بار کونسل کا مؤقف ہے کہ جب کسی ملزم کی طرف سے جج یا کارروائی پر اعتراضات اٹھائے جائیں، منتخب وکیل کے ذریعے نمائندگی کا حق مانگا جائے، اور عدالتی کارروائی کی شفافیت پر سوالات ہوں، تو ایسے بنیادی معاملات پر پہلے غور کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ بصورت دیگر انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہوتا ہے بلکہ یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انصاف سرے سے فراہم ہی نہیں کیا گیا۔ بار کونسل کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات نے مجموعی طور پر عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متاثر کیا ہے اور انصاف کی فراہمی کے عمل پر سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

بار کونسل کا مطالبہ: بلوچستان بار کونسل نے متعلقہ عدالتی اور آئینی فورمز سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق، اور منصفانہ ٹرائل (Fair Trial) کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بار کونسل نے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ بھی کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں