کوئٹہ(ویب ڈیسک) ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے گرفتار رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان اور بلوچستان ہائیکورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں نادیہ بلوچ نے کہا کہ ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور دیگر گرفتار رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کا طریقہ کار قابل قبول نہیں، کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے سے ریاست کی جانب سے ایسے وکلا مقرر کیے گئے ہیں جو ملزمان کی رضامندی اور کسی باقاعدہ وکالت نامے کے بغیر ان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماہرنگ بلوچ اور دیگر زیر حراست رہنماؤں نے متعدد بار اس انتظام پر اعتراض کیا اور ان وکلا کو اپنا نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
نادیہ بلوچ نے کہا کہ قانونی نمائندگی کا حق منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حصہ ہے اور وکیل کو ملزم کی ہدایات اور باقاعدہ رضامندی کے تحت کام کرنا چاہیے، تاہم ان کے مطابق موجودہ کارروائی گرفتار افراد کی خواہشات کے برخلاف جاری رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ماہرنگ بلوچ اور دیگر رہنما کئی روز سے اس عدالتی عمل کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاستی مقرر کردہ وکلا کے ذریعے کارروائی جاری رہی۔
نادیہ بلوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایسے حالات میں سزائیں سنائی جاتی ہیں تو اس کی ذمہ داری صرف حکومت بلوچستان تک محدود نہیں ہوگی بلکہ وہ وکلا بھی جواب دہ ہوں گے جو ملزمان کی رضامندی کے بغیر نمائندگی کرتے رہے۔
انہوں نے سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ گرفتار رہنماؤں کے منصفانہ ٹرائل کے حق کا تحفظ کیا جائے، ان کے منتخب کردہ وکلا کو تسلیم کیا جائے اور عدالتی کارروائی کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق یقینی بنایا جائے۔