حیدرآباد میں “جنگلات بچاؤ” ریلی، حکومت سے فوری جنگلات کی کٹائی روکنے کا مطالبہ

حیدرآباد: جنگلات بچاؤ کمیٹی کی اپیل پر حیدرآباد میں موسلا دھار بارش کے باوجود سندھ یونیورسٹی اولڈ کیمپس سے حیدرآباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں خواتین، سماجی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ریلی کی قیادت زین داؤد پوٹے، پیر محمد نوناری، نثار لغاری، ناصر پنہور، زاہد مرتضیٰ دھاریجو اور کامریڈ اقبال خان نے کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور “جنگلات بچاؤ، سندھ بچاؤ” کے نعرے لگائے۔

اس موقع پر جنگلات بچاؤ کمیٹی کے چیئرمین زین داؤد پوٹے نے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت خود جنگلات کی کٹائی کروا رہی ہے اور قدرتی وسائل کو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ جنگلات کی زمینوں پر بااثر افراد کے قبضے کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج جنگلات کو نہ بچایا گیا تو آنے والی نسلیں ماحولیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور سیلاب جیسے خطرات کا سامنا کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تحریک عوامی تحریک بن چکی ہے۔

سندھی نیشنل کانگریس کے مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر سارنگ جویو نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور جاگیرداروں کے ذریعے جنگلات کی کٹائی اور لاکھوں ایکڑ اراضی پر کارپوریٹ فارمنگ سمیت مختلف منصوبوں کے نام پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی معیار کے مطابق ہر ملک میں کم از کم 10 فیصد جنگلات ہونا ضروری ہیں، جبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ اس سے کہیں کم رہ گیا ہے۔

پورہیت مزاحمت تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری نثار لغاری نے مطالبہ کیا کہ جنگلات کی کٹائی فوری طور پر بند کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی اراضی مخصوص افراد کے حوالے کرنا سندھ کے کسانوں اور مزدوروں کے مفادات کے خلاف ہے۔

ماحولیاتی ماہر ناصر پنہور نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور بزرگوں کی لگائی ہوئی درختوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات بچاؤ کمیٹی اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔

ایرڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے مرکزی رہنما زاہد مرتضیٰ دھاریجو نے کہا کہ ایک جانب حکومت “گرین پاکستان” کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری جانب جنگلات کی کٹائی جاری ہے، جو ایک واضح تضاد ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس تحریک کو سندھ کے ہر شہر اور گاؤں تک پہنچایا جائے گا۔

احتجاج میں کامریڈ شاہینہ لغاری، سہنی جویو، سندھو رنگریز، صحافی حاکم چانڈیو، رمضان برڑی، رحمت اللہ سولنگی، سمیع چانڈیو، عمیر انصاری، عطا محمد نوناری سمیت دیگر سماجی و سیاسی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور جنگلات کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مظاہرے کے اختتام پر جنگلات بچاؤ کمیٹی کے رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک وسیع کر دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں