سوات میں پولیس لائن کے قریب دھماکہ، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

سوات: خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس لائن کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والے دھماکے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

سوات پولیس کے ترجمان ناصر اقبال کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب کبل پولیس اسٹیشن کے قریب کبل چوک میں بدامنی کے خلاف سول سوسائٹی اور امن ماسون نامی تنظیم کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ جاری تھا۔ کبل پولیس اسٹیشن سوات پولیس لائن کے احاطے میں واقع ہے۔

سیدو ٹیچنگ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم خان کے مطابق اسپتال میں نو لاشیں منتقل کی گئیں، جن میں پانچ پولیس اہلکار اور چار عام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں 23 زخمیوں کو بھی لایا گیا، جن میں 15 پولیس اہلکار جبکہ باقی عام شہری ہیں۔

دوسری جانب ریسکیو 1122 کے مطابق پانچ لاشیں کبل اسپتال منتقل کی گئیں، جن میں دو عام شہریوں کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے، ایک پولیس اہلکار جبکہ دیگر دو افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس احتجاجی مظاہرے کے دوران دھماکہ ہوا، اس کے لیے انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ پولیس نے ایک روز قبل جاری بیان میں واضح کیا تھا کہ اس احتجاج کے لیے کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا، اور اجازت کے بغیر جلسہ یا احتجاج کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دھماکے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں