کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مزاحمتی تنظیم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) نے طالبان کے خلاف باقاعدہ مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بدغیس اور قندھار میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین اور سابق افغان فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سمیع سادات نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ طالبان کے خلاف فوجی کارروائیوں کی اجازت دے دی گئی ہے اور آپریشن کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کی عسکری کارروائیاں طالبان کے جنگجوؤں، ان کے اڈوں اور قیادت کو ہدف بنائیں گی۔ سمیع سادات نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی تنظیم صرف طالبان ہی نہیں بلکہ القاعدہ، داعش (اسلامک اسٹیٹ)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف بھی کارروائیاں کرے گی۔
بدغیس اور قندھار میں حملوں کا دعویٰ
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے اپنے تازہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران صوبہ بدغیس میں دو طالبان ارکان کو ہلاک کیا گیا، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد میں ملوث تھے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ “کوئی بھی ظالم یا کرائے کا جنگجو سزا سے نہیں بچ سکے گا۔”
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ جمعہ کی شام تقریباً 8:30 بجے اس کے آپریشنل یونٹ نے قندھار پولیس کمانڈ ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس میں مرکزی دروازے پر موجود دو طالبان ارکان مارے گئے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کا الزام ہے کہ قندھار پولیس ہیڈکوارٹر کو بے گناہ شہریوں پر تشدد، انہیں قید رکھنے اور طالبان قیادت کی عسکری منصوبہ بندی کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان دعوؤں کی بھی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کیا ہے؟
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ ایک طالبان مخالف سیاسی اور مزاحمتی تنظیم ہے، جس کی بنیاد سابق افغان فوجی افسران، سکیورٹی حکام اور سیاسی شخصیات نے رکھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد افغانستان میں 2004 کے آئین کی بحالی، قومی وحدت، جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ تنظیم اپنی جدوجہد کو سیاسی، سفارتی اور عسکری تینوں محاذوں پر جاری رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
جنرل سمیع سادات کون ہیں؟
سمیع سادات افغان قومی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ وہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے قبل افغان فوج کے نائب سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے وہ افغان اسپیشل آپریشنز کور اور 215 مائیوند کور کی قیادت بھی کر چکے تھے اور طالبان کے خلاف کئی فوجی آپریشنز میں شریک رہے۔ کابل کے سقوط کے بعد وہ افغانستان سے باہر چلے گئے اور بعد میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی قیادت سنبھال لی۔
مذاکرات ناکام ہو چکے، سمیع سادات
اپنے ویڈیو پیغام میں سمیع سادات نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے تقریباً پانچ برس بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ان کے بقول اب افغانستان کو “آزاد اور آئینی ریاست” بنانے کے لیے منظم مزاحمت ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے افغانستان کے اندر اور بیرونِ ملک مقیم افغان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں شامل ہوں، جبکہ امریکا، نیٹو اور عالمی برادری سے سیاسی اور مادی تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہیں افغانستان میں غیر ملکی افواج یا فوجی اڈوں کی ضرورت نہیں۔