آزاد کشمیر انتخابات کی کوریج پر تنازع، الجزیرہ پر جانبدارانہ رپورٹنگ کا الزام ، غیرملکی میڈیا پر نئی پابندیاں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت پاکستان نے غیر ملکی میڈیا اداروں اور ان سے وابستہ صحافیوں کے لیے نئی “Foreign Media Facilitation Guidelines – 2026” جاری کر دی ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹنگ کو “جانبدارانہ” قرار دیتے ہوئے اس پر سخت اعتراض بھی اٹھایا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور ویب بیسڈ میڈیا اداروں، صحافیوں، فری لانسرز، فکسرز اور دیگر متعلقہ افراد کی رجسٹریشن، ایکریڈیٹیشن اور رپورٹنگ کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق یہ ہدایات رولز آف بزنس 1973 کے تحت جاری کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق تمام غیر ملکی میڈیا اداروں پر ہوگا۔ گائیڈ لائنز میں صحافی، میڈیا پروفیشنل اور میڈیا اونر کی تعریف بھی شامل کی گئی ہے، جبکہ بعض حساس علاقوں میں رپورٹنگ کے لیے پیشگی حکومتی اجازت یا این او سی کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے نئی گائیڈ لائنز پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹ کے بعد پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ بلاک کر دی گئی ہے اور بین الاقوامی میڈیا کی نقل و حرکت پر مزید پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

قاسم خان سوری کے مطابق نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی میڈیا نمائندے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ دیگر علاقوں میں صرف حکومتی این او سی کے بعد ہی رپورٹنگ کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد آزاد جموں و کشمیر سمیت حساس علاقوں میں بین الاقوامی میڈیا کی آزادانہ کوریج کو محدود کرنا ہے۔

ادھر وزارت اطلاعات و نشریات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں الجزیرہ کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مظفرآباد کے چند مخصوص پولنگ اسٹیشنز سے کی گئی چینل کی کوریج کا نوٹس لیا ہے۔

وزارت کے مطابق الجزیرہ نے “منتخب مقامات، مخصوص اوقات اور پہلے سے طے شدہ بیانات” کے ذریعے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور ووٹنگ کے عمل کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسی “زرد صحافت” ان بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے جو انتخابی عمل کو متنازع بنانے اور عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ مظفرآباد اور آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے انتشار اور جبر کو مسترد کرتے ہوئے اپنی رائے کا واضح اظہار کیا، تاہم بعض حلقے اس عوامی فیصلے کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر فائل کیے جانے تک وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے الجزیرہ کی ویب سائٹ کی مبینہ بندش کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ قاسم خان سوری کے الزامات پر بھی سرکاری سطح پر الگ سے کوئی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں