ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کی ضمانت کیس میں ریکارڈ پیش نہ ہونے پر جج برہم، ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑا کردیا

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کے دوران کیس کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے پولیس حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے ساتھ ہتھکڑی منگوا لی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے درخواستوں پر سماعت کی۔ تفتیشی افسر کی عدم موجودگی پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈی ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

دوران سماعت وکیلِ صفائی ریاست علی نے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستوں پر تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہیں، جس پر جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہے؟ عدالتی عملے نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کہاں ’’آؤٹ آف سٹی‘‘ ہے؟ ڈی ایس پی کو بلائیں، زبانی کلامی باتیں نہیں مانی جائیں گی۔ عدالت نے ہتھکڑی منگوانے کے ساتھ سکیورٹی انچارج کو بھی طلب کرلیا۔

ڈی ایس پی کے عدالت میں پیش ہونے پر جج نے کیس کا ریکارڈ طلب کیا۔ ڈی ایس پی کی جانب سے انگریزی میں جواب دینے پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے ساتھ اردو میں بات کرو۔‘‘

ڈی ایس پی نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر شہر سے باہر ہے، جس پر جج نے کہا کہ آپ ایسے کیسے آگئے، مجھے زبانی کلامی باتیں پسند نہیں۔ ڈی ایس پی نے کچھ وقت دینے کی درخواست کی تو جج نے کہا کہ ریکارڈ پر کوئی چیز لائیں۔

جج نے پولیس افسران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اور ایس پی کو بھی 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دوں گا، شرم آنی چاہیے، یہاں بدمعاشی بنائی ہوئی ہے۔

عدالت نے مزید سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور ثبوت پیش کیے جائیں، ورنہ یونیفارم سمیت 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا۔

ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے اور اس حوالے سے واٹس ایپ پر موصول ہونے والی معلومات کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ تاہم عدالت نے واٹس ایپ کاپی قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے ڈی ایس پی کی جانب واپس پھینکتے ہوئے اصل دستاویز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو کٹہرے میں کھڑے رہنے کا حکم دیا اور سکیورٹی انچارج سے کہا کہ فیصلے تک انہیں جانے نہ دیا جائے۔ عدالت نے گیٹ پر موجود اہلکار کو بھی ڈی ایس پی کو باہر جانے سے روکنے کی ہدایت کی۔

جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے احکامات پر فوری عمل درآمد کے لیے جوڈیشل فورس ہونی چاہیے، یہاں تو ’’1898 اور 1860 کا نظام‘‘ چل رہا ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت پر مزید کارروائی کیس کا اصل ریکارڈ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد آگے بڑھنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں