گڈو تھرمل پاور ہاؤس میں درختوں کی بے دردی سے کٹائی، حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

گڈو(رپورٹ: فرحان قریشی) گڈو تھرمل پاور ہاؤس میں قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی کا انکشاف ہوا ہے۔ نیم، شیشم، کیکر، مشک بید سمیت دیگر قیمتی درخت خفیہ راستوں اور نہر کنارے کے ذریعے مختلف شہروں میں اسمگل کیے جا رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، پاور ہاؤس میں اس سے قبل بھی لوہا اور دیگر قیمتی سامان کی چوری معمول بن چکی تھی اور اب قدرتی حسن اور ماحول کے محافظ درخت بھی غیر قانونی طور پر کاٹے جا رہے ہیں۔

عوام اور شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ درختوں کی کٹائی نہ صرف ماحول دشمنی ہے بلکہ آنے والی نسلوں سے زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی کٹائی پر فوری نوٹس لیا جائے، ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ گڈو تھرمل پاور ہاؤس کی انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ قیمتی درختوں کی کٹائی سے علاقے میں ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خدشہ ہے، جس کے نتائج طویل مدت میں نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں