سکھر پولس کا جرائم کو قابو کرنے میں ناکامی کا اعتراف “نفری کی کمی کی وجہ سے جرائم پر قابو پانا مشکل ہے”: ڈی آئی جی/ایس ایس پی

سکھر(رپورٹ: حسن ہکڑو) ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ اور ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر پولیس جرائم کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ مگر نفری کی کمی کی وجہ سے پولس کو جرائم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنہ ہے۔

ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا کہ شہید جان محمد مہر کے قتل کیس میں سب کو معلوم ہے کہ اس واردات کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ قاتل اس وقت دریا کے کچے کے علاقے میں چھپے ہوئے ہیں جس کے باعث گرفتاری میں وقت لگ رہا ہے، تاہم انشاء اللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے کا علاقہ وسیع ہے جو تین اضلاع کو لگتا ہے، اس وجہ سے کارروائیوں میں مشکلات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاہے کچھ بھی کرلیا جائے، کرائم کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، مگر پولیس ہر صورت مجرموں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ “کوئی بھی افسر یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے علاقے میں جرائم ہوں،” انہوں نے کہا۔

ڈی آئی جی نے پریا کماری کیس پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مقدمہ گزشتہ چار سال سے چل رہا ہے اور اسے کسی صورت بند نہیں کیا گیا۔ پولیس نے اطلاع فراہم کرنے والے کے لیے 40 سے 50 لاکھ روپے انعام بھی مختص کیا ہے۔

ایس ایس پی سکھر اظہر خان مغل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیس نے حالیہ کارروائیوں میں متعدد گاڑیاں برآمد کی ہیں اور بچل شاہ سمیت دیگر علاقوں میں سرگرم گینگز کو توڑا ہے۔ ان کے مطابق مختلف تھانوں میں 18 گینگز کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

ایس ایس پی نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد سکھر شہر کے ساتھ دیگر شہروں میں بھی سرگرم ہیں، تاہم پولیس نے دو ماہ قبل گاڑیاں پکڑنے کی مہم شروع کی تھی اور شہریوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ رجسٹریشن کروا کر گاڑیاں چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ سکھر ایک پرامن شہر ہے اور شہری اپنے گھروں میں محفوظ ہیں، تاہم یہ بات درست ہے کہ جرائم موجود ہیں جنہیں ختم کرنے کے لیے پولیس بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ پولیس کی نفری میں کمی ہے کیونکہ مختلف سرکاری اداروں اور کچے کے علاقوں میں اہلکار تعینات ہیں۔

ایس ایس پی اظہر خان مغل نے کہا کہ پولیس کا کسی بھی جرائم پیشہ گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جان محمد مہر قتل کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک ملزم پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے جبکہ باقی ملوث افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم کی وجہ سے پولس نے اپنی ساکھ بحال کرنے کیلئے شورومز سے موٹرسائکلیں خرید کر متاثر اثر رسوخ رکھنے والے شہریوں میں تقسیم کئے۔

موٹر سائیکل سنیچنگ کے متاثر شہریوں نے پولس حکام کے اقربا پروری کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔

دی انڈس ٹربیون سے بات کرتے ہوئے متاثر شہریوں فرحان علی، نذیر بھیو ودیگر نے کہا کہ ان کے موٹرسائکل چوری ہوتے ہوئے کئی مہینے ہوگئے مگر پولس تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں۔

“پولس حکام کی جانب سے اپنی ساکھ بچانے کیلئے صرف سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے لوگوں کو موٹر سائیکل دی گئیں” شہریوں نے کہا۔

اپنا تبصرہ لکھیں