گھوٹکی: مسافر کوچ پر مسلح افراد کا حملہ، بیس سے زائد مسافروں کے اغوا کا خدشہ

گھوٹکی(انڈس ٹربیون) ضلع گھوٹکی کے تحصیل اوباڑو میں کھبڑا تھانے کی حدود میں صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر مسلح افراد کے حملے کے بعد بیس سے زائد مسافروں کے مبینہ اغوا کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال اغوا کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب مرید شاخ کے قریب پیش آیا۔ عینی شاہدین اور کوچ کے عملے کے مطابق مسلح افراد کی تعداد تقریباً 20 تھی، جو اچانک سڑک پر آ گئے اور پہلے کوچ پر پتھراؤ کیا، بعد ازاں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

صادق آباد سے کراچی جانے والی سدا بہار کوچ کے کلینر نے انڈس ٹربیون کو بتایا کہ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے کوچ کے تین ٹائر برسٹ کر دیے، جس کے بعد وہ گاڑی میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر مسافروں سے نقدی، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔

کلینر کے مطابق کوچ میں مجموعی طور پر 27 مسافر سوار تھے۔ حملہ آوروں نے پانچ خواتین اور ایک دو مرد مسافروں کو موقع پر چھوڑ دیا جبکہ باقی مسافروں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

مسافر کوچ کے کلینر

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد تقریباً آدھے گھنٹے تک فائرنگ کرتے رہے، تاہم پولیس ایک گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد موقع پر پہنچی۔

دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی اوباڑو عبدالقادر سومرو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ مسافر خوف کے باعث قریبی گنے کی فصل میں چھپ گئے تھے، جس کے باعث فی الحال اغوا کی حتمی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے لاپتہ مسافروں کی تلاش میں مصروف ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال جلد واضح ہونے کی توقع ہے۔

اوباڑو کے مقامی صحافی مظہر چاچڑ نے بتایا کہ یہ واقعہ ایسے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں ماضی میں بھی اس نوعیت کی وارداتیں رپورٹ ہوتی رہی ہیں، تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مسافروں کا سراغ نہ ملنا تشویش میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ مسلح افراد مسافروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

واقعے کے بعد مسافروں کے اہل خانہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں