کراچی(ويب ڈیسک) کراچی کے علاقے سولجر بازار کی گل رانا کالونی میں جمعرات کی صبح ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے جبکہ ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہیں. جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق دھماکہ صبح تقریباً پانچ بجے ہوا اور اس کے نتیجے میں عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ زخمیوں اور لاشوں کو ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دھماکہ کیسے ہوا؟
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارت میں مبینہ طور پر گیس پریشر مشین (کمپریسر) استعمال کی جا رہی تھی، جو اطراف کی لائنوں سے گیس کا دباؤ کھینچتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکہ پہلی منزل پر ہوا جس کے بعد تین منزلہ عمارت شدید متاثر ہوئی اور اس کی چھت گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمارت کے اندر گیس پریشر مشین نصب تھی جبکہ باہر ایک خستہ حال گیس میٹر بھی موجود تھا۔ پلاسٹک پائپوں کے ذریعے مختلف حصوں میں گیس کے کنکشن دیے گئے تھے۔
تین سگی بہنیں جاں بحق
سندھی نیوز چینل ٹائم نیوز کے مطابق جاں بحق افراد میں ٹنڈو غلام حیدر سے تعلق رکھنے والی تین سگی بہنیں بھی شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ احمد لغاری گاؤں کے محنت کش انور لغاری کی تین بیٹیاں 12 سالہ انیشا، 18 سالہ افشان اور 23 سالہ علیشا ملبے تلے دب کر جان کی بازی ہار گئیں جبکہ ان کی چوتھی بیٹی کوثر زخمی حالت میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
امدادی کارروائیاں اور مشکلات
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عمارت 30 سے 40 گز کے رقبے پر قائم تھی اور علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ تاہم خصوصی آلات کی مدد سے ملبہ ہٹا کر سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور اب اندر کسی اور فرد کی موجودگی کی اطلاع نہیں۔
مقامی مکینوں کے مطابق علاقے میں کئی روز سے گیس کی فراہمی معطل تھی اور بدھ کی شب اچانک تیز دباؤ کے ساتھ گیس کی سپلائی بحال ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ سحری کے وقت چولہا جلاتے ہی زور دار دھماکہ ہوا۔
ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ عمارت میں پانچ خاندان مقیم تھے، جن میں سے زیادہ تر کرایہ دار تھے۔ ان کے مطابق دھماکے سے پہلی اور دوسری منزل کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔
حکومتی ردعمل
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔