ویپ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش، تمباکو نوشی رو ک تھام کیلئے قوانین پر عمل کرانے کا مطالبہ

سکھر (انڈس ٹربیون) غیر سرکاری تنظیم میگنیٹ اور سی ٹی سی کے تعاون سے سکھر میں “تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے نقصانات اور انڈسٹری کی مداخلت” کے موضوع پر آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں صحافیوں اور صحت کے ماہرین نے شرکت کی۔ سیشن میں تمباکو اور ویپ کے بڑھتے ہوئے استعمال، نوجوانوں پر اثرات اور پبلک ہیلتھ پالیسی سازی میں انڈسٹری کی مداخلت کے خطرات پر زور دیا گیا۔

سیشن کے دوران سی ٹی سی کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر زیشان دانش نے بتایا کہ تمباکو اور نکوٹین کے استعمال سے انسانی صحت پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور نوجوان نسل اس لت کا شکار ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روایتی سگریٹ کے بعد الیکٹرانک سگریٹ اور ویپ کا استعمال بڑھ رہا ہے، جو پھیپھڑوں کے لیے کئی گناہ زیادہ خطرناک ہے۔

زیشان دانش نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے 2030 تک سگریٹ نوشی کی شرح میں 30 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے قانونی نکات بھی واضح کیے: تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے دائرے میں سگریٹ فروخت یا استعمال ممنوع ہے، عوامی مقامات اور مسافر بسوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے، اور دفاتر میں نو اسموکنگ کے نوٹس لازمی ہیں۔

سیشن میں شرکاء نے پالیسی سازی کے عمل سے تمباکو انڈسٹری کو دور رکھنے، سرکاری سطح پر شفافیت قائم کرنے، سیاسی جماعتوں کو تمباکو کمپنیوں کی مالی معاونت سے روکنے اور انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات مرحلہ وار ختم کرنے پر زور دیا۔

سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند نے کہا کہ تمباکو نوشی ایک خاموش قاتل ہے جس سے لاکھوں زندگیاں خطرے میں ہیں۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی کہانیاں اجاگر کرے تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو اور سگریٹ و ویپ نوشی کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

سیکشن کے آخر میں شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے اداروں میں تمباکو کنٹرول پالیسیوں پر عملدرآمد اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں