سکھر (رپورٹ: تاج رند) سکھر سینٹرل جیل سے کچے کے قیدی امجد علی کورائی کے فرار ہونے کے معاملے کی انکوائری رپورٹ تقریباً 15 ماہ بعد سامنے آگئی، جس کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے غفلت اور سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی کے مرتکب قرار دیے گئے جیل اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کردی۔
حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 31 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے احکامات کے مطابق سکھر سینٹرل جیل سے قیدی کے فرار کے معاملے میں مختلف افسران و اہلکاروں کے خلاف سزائیں عائد کی گئی ہیں۔
دستیاب سرکاری حکم نامے کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل و انچارج ہیومن ریسورسز آصف علی کورائی کے خلاف انکوائری کے بعد انہیں سرکاری ملازمت سے جبری ریٹائرمنٹ (Compulsory Retirement) کی بڑی سزا دی گئی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آصف علی کورائی جیل کے مرکزی گیٹ سے پکٹس کے علاقے تک فول پروف سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں زیرِ سماعت قیدی امجد علی کورائی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق آصف علی کورائی کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، ان کا تحریری جواب طلب کیا گیا اور ذاتی سماعت کا موقع بھی دیا گیا، تاہم ان کی وضاحت اور سماعت کے دوران پیش کیا گیا مؤقف غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
5 اہلکار جبری ریٹائر
انکوائری رپورٹ کے مطابق قیدی کے فرار کے معاملے میں ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ آصف کورائی، اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ مہدی رضا وساڻ، پولیس کانسٹیبل خالد رُک، اعظم جوڻيجو اور محمد علی چنہ سمیت 5 اہلکاروں کو جبری ریٹائر کیا گیا ہے۔
اے ایس آئی سمیت 4 اہلکار ملازمت سے برطرف
ذرائع کے مطابق محکمانہ کارروائی کے نتیجے میں اے ایس آئی اطہر ملہن، پولیس کانسٹیبل کمال الدین چاچڑ، سدھیر ملہن اور ایمان علی میتلو کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ سمیت 3 اہلکاروں کی ترقی 5 سال کے لیے روک دی گئی
دوسرے سرکاری حکم نامے کے مطابق سکھر سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ ذوالفقار علی آغا کے خلاف بھی انکوائری کی گئی۔ انہیں جیل کی مجموعی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات یقینی بنانے میں ناکامی، خستہ حال واچ ٹاورز کی بروقت مرمت نہ کرانے اور سکیورٹی کے لیے اہم مقامات پر مناسب انتظامات برقرار نہ رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق ذوالفقار علی آغا کی جانب سے شوکاز نوٹس کے جواب اور ذاتی سماعت کے دوران دی گئی وضاحت کو بھی غیر تسلی بخش قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف پانچ سال کے لیے ترقی روکنے (Withholding of Promotion) کی سزا عائد کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ ذوالفقار آغا، پولیس کانسٹیبل وحید خاصخیلی اور بھیشم خاصخیلی کی بھی پانچ سال کی ترقی/انکریمنٹس روکنے کی کارروائی کی گئی ہے۔
قیدی کیسے فرار ہوا؟
واضح رہے کہ 9 مئی 2025 کو سکھر سینٹرل جیل میں سکیورٹی انتظامات کے دوران زیرِ سماعت قیدی امجد علی ولد ریاض علی کورائی جیل کی دیوار پھلانگ کر فرار ہوگیا تھا۔
واقعے کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے معاملے کی انکوائری کے لیے انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔ انکوائری کے دوران جیل کی سکیورٹی، واچ ٹاورز کی حالت، اہلکاروں کی ڈیوٹی اور قیدی کی نگرانی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی، جس پر محکمہ داخلہ سندھ نے شوکاز نوٹسز اور ذاتی سماعت کے مراحل مکمل کرنے کے بعد مختلف نوعیت کی سزائیں عائد کیں۔
دوسری جانب قیدی امجد علی کورائی تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا اور اس کی گرفتاری کے لیے پولیس کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔
قیدی کے فرار کے تقریباً 15 ماہ بعد محکمانہ کارروائی سامنے آنے پر جیل کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔