بیانیوں کی جنگ اور بدلتا ہوا سماج

ڈاکٹر احمد علی میمن
عصرِ حاضر کی سیاست اور سماج کو سمجھنے کے لیے اطالوی مفکر انتونیو گرامشی کے خیالات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے طاقت کو محض حکومت، فوج یا قانون کے دائرے میں محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانی شعور، ثقافت، تعلیم، ذرائع ابلاغ اور روزمرہ گفتگو تک پھیلا ہوا ایک ہمہ جہت نظام قرار دیا۔ ان کے نزدیک اصل حکمرانی وہ نہیں جو صرف اقتدار کے ایوانوں میں نظر آئے بلکہ وہ ہے جو ذہنوں میں قبولیت پیدا کر لے۔ یعنی اگر عوام کسی نظام، سوچ یا بیانیے کو فطری اور درست سمجھنے لگیں تو وہی اصل طاقت بن جاتا ہے، چاہے اس کے پیچھے کون سی قوتیں کیوں نہ کارفرما ہوں۔

اسی تناظر میں ابلاغی ذرائع کا کردار محض خبر رسانی تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ حقیقت کے فریم طے کرتے ہیں۔ خبر کیا ہے، مسئلہ کتنا اہم ہے، اور کسی واقعے کو کس زاویے سے دیکھا جائے، یہ سب عوامل رائے عامہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ایک ہی نقطۂ نظر بار بار دہرایا جائے تو وہ رفتہ رفتہ اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے اور لوگ اسے سوال کیے بغیر قبول کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں طاقت خاموشی سے اپنا اثر جما لیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتے۔ ایسے ادوار بارہا آتے ہیں جب پرانا نظام اپنی گرفت کھو دیتا ہے مگر نیا ابھی پوری طرح وجود میں نہیں آتا۔ یہ عبوری مرحلہ بظاہر انتشار، بے یقینی اور تضادات سے بھرپور دکھائی دیتا ہے، مگر دراصل یہی وقت نئے خیالات کی پیدائش کا ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے کسی بھی ادارے کی مثال کافی ہے جہاں پرانا طریقۂ کار ختم ہو جائے مگر نیا نظام ابھی نافذ نہ ہوا ہو۔ وہاں وقتی افراتفری لازمی ہوتی ہے، مگر یہی افراتفری دراصل تبدیلی کی علامت بھی ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے معاشروں میں یہ صورتحال زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ایک طرف نئی نسل جدید تعلیم، ڈیجیٹل ذرائع اور عالمی رجحانات کے زیرِ اثر نئی سوچ کے ساتھ سامنے آ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف روایتی سیاسی و سماجی ڈھانچے اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کشمکش کے نتیجے میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قومی ترجیحات غیر واضح ہیں، بیانیے متضاد ہیں اور سمت دھندلی ہے۔ مگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہی تضاد اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ معاشرہ جمود کا شکار نہیں بلکہ حرکت میں ہے۔

اس مرحلے میں ایک عام غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ تمام پیچیدگیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت، جماعت یا ادارے کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ حالانکہ فکری نقطۂ نظر سے مسئلہ افراد نہیں بلکہ وہ خلا ہوتا ہے جو پرانے اور نئے نظام کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ جب کوئی واضح اجتماعی سمت موجود نہ ہو تو مختلف آوازیں بیک وقت ابھرتی ہیں، نظریات ٹکراتے ہیں اور بیانیے بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں معاشرے اپنی نئی شناخت تلاش کرتے ہیں۔

دانشوروں کے نزدیک اصل معرکہ ہمیشہ ذہنوں میں لڑا جاتا ہے، میدانوں میں نہیں۔ جو قوت لوگوں کے سوچنے کا انداز بدل دے، ان کی ترجیحات تشکیل دے اور ان کے عام فہم کو متاثر کر لے، وہی دراصل سب سے زیادہ اثرورسوخ حاصل کر لیتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی دور کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی واقعات یا حکومتی فیصلوں کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ معاشرے میں کون سی زبان بولی جا رہی ہے، کون سے خیالات مقبول ہو رہے ہیں اور کون سے تصورات آہستہ آہستہ پس منظر میں جا رہے ہیں۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بڑے سماجی تغیر ہمیشہ ایسے ہی عبوری مراحل سے جنم لیتے ہیں۔ بظاہر بے ترتیبی دراصل نئے نظم کی تمہید ہوتی ہے، اور تضاد دراصل ارتقا کا ابتدائی نقشہ۔ اس لیے اگر حالات پیچیدہ نظر آئیں تو اسے محض بحران سمجھ کر مایوس ہونے کے بجائے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ شاید معاشرہ کسی نئی سمت کی تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ کیونکہ تبدیلی کا عمل ہمیشہ خاموشی سے ذہنوں میں شروع ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ حقیقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں