کراچی(انڈس ٹربیون) وزیرِ تعلیم و ترقیِ معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ کی زیرِ صدارت محکمہ مائنز اینڈ منرلز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں جاری غیر قانونی کان کنی کی روک تھام اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز راجا شاہ زمان کھڑو، ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز مہیش لال دودانی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
محکمہ کی جانب سے غیر قانونی کان کنی اور معدنیات کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف جاری کارروائیوں پر اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی مائننگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
اجلاس میں کراچی کے ضلع ملیر، جامشورو، نگرپارکر اور ٹھٹہ میں ہونے والی غیر قانونی کان کنی اور اس کی روک تھام سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے سندھ بھر میں غیر قانونی کان کنی کے خاتمے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ٹاسک فورس کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں جبکہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی تیز کی جائے اور نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ معدنی وسائل کے تحفظ اور قانونی طریقۂ کار کے تحت کان کنی کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں کسی کو بھی غیر قانونی کان کنی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔
اجلاس میں غیر قانونی کان کنی کے باعث پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں.