سکھر(رپورٹ: تاج رند) حکومتِ سندھ کے محکمہ داخلہ نے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی ہے، تاہم اس اقدام پر وکلا کے ایک حلقے نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں.
سرکاری دستاویز کے مطابق یہ سمری 6 مارچ 2026 کو کابینہ کو بھجوائی گئی، جس میں تین وکلا کو مختلف انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں پریزائیڈنگ آفیسر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سمری کے مطابق ارشاد حسین دھاریجو کو کشمور کندھکوٹ، اعجاز علی چانڈیو کو نوشہرو فیروز اور ایاز حسین مری کو جیکب آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پریزائیڈنگ آفیسر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سکھر میں ختم کی گئی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے پریزائیڈنگ آفیسر عبد الرحمن قاضی کو اپنی باقی مدت مکمل کرنے کے لیے سکھر کی موجودہ عدالت میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس کی توثیق سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے کی گئی ہے۔

سمری کے مطابق انسدادِ دہشت گردی سندھ ترمیمی قانون 2025 کے تحت ایسے جج یا پریزائیڈنگ آفیسر کی مدت دو سال اور چھ ماہ ہوگی جبکہ صوبائی حکومت اپنی صوابدید کے تحت مزید ایک مدت کے لیے دوبارہ تقرری بھی کر سکتی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اس معاملے کو صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے اور حتمی منظوری کے لیے سمری کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
’ہائبرڈ اور سمجھوتہ شدہ عدالتی فریم ورک‘ متعارف کیا جا رہا ہے” وکلا کے اعتراضات
سندھ حکومت کی جانب سے مجوزہ تقرریوں پر وکلا کے بعض حلقوں نے سخت تنقید کی ہے۔
سکھر سے تعلق رکھنے والے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل شبیر شر نے اپنے سماجی رابطے کے اکاؤنٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتِ سندھ کی جانب سے ایک ایسے ’ہائبرڈ اور سمجھوتہ شدہ عدالتی فریم ورک‘ متعارف کرانے کی مذمت کرتے ہیں جو ان کے بقول انصاف کے نظام کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالتیں دہشت گردی، قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ جیسے اہم مقدمات سنتی ہیں، اس لیے ایسے عہدوں پر تقرریاں میرٹ، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔
شبیر شر نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالتی تقرریوں کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو کہ وہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں تو اس سے عدلیہ پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
“سیاسی ججز سے انصاف کا تقاضا سوالیہ نشان ہے”
سندھ ہائی کورٹ کے سینیئر وکیل عاقب راجپر نے بھی مجوزہ تقرریوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں عام طور پر اپنے کارکنوں کو مختلف عہدوں پر تعینات کرتی رہی ہیں، تاہم جج جیسے منصب کے لیے غیر سیاسی اور پیشہ ور افراد کا انتخاب ضروری ہے۔

ایک سوال اٹھایا کہ اگر کسی وکیل کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو تو کیا وہ ایسے حساس مقدمات میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ انصاف فراہم کر سکے گا جن میں سیاسی شخصیات یا بااثر افراد فریق ہوں۔
عاقب راجپر نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں اور مطالبہ کریں کہ عدالتی عہدوں پر صرف غیر سیاسی اور پیشہ ور وکلا کو تعینات کیا جائے۔
تاہم اس معاملے پر حکومتِ سندھ کی جانب سے وکلا کے اعتراضات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جبکہ سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلزپارٹی (شعبہ خواتین) کی صدر فریال تالپور کی سوشل اکاونٹ سے دس اکتوبر 2025 کی پوسٹ کی اسکرین شاٹ بھی وائرل ہے، جس میں بطور جج تجویز کردہ ارشاد حسین دھاریجو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فریال تالپور سے ملاقات کر کے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا علان کر رہے ہیں۔ تاہم انڈس ٹربیون اس اسکرین شاٹ کی تصدیق نہیں کر سکتا.