سندھ سے کراچی کو کون اور کیوں الگ کرنا چاھتے ھیں؟

سندھ سے کراچی کو کون اور کیوں الگ کرنا چاھتے ھیں؟

ڈاکٹر مسعود طارق
دوسری جنگ عظیم کے 1945 میں خاتمے اور پاکستان کے 1947 میں قیام کے وقت تک سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ شروع ھوچکی تھی۔ سوویت یونین کمیونسٹ جبکہ امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت دنیا بھر میں اپنا اپنا کیمپ بنا رھے تھے۔

یورپ کے مشرقی حصے کے ممالک سوویت یونین اور مغربی حصے کے ممالک امریکی کیمپ میں شرکت کرچکے تھے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ وجود میں لایا جا چکا تھا۔ جرمنی کو تقسیم کرکے مشرقی جرمنی سوویت یونین اور مغربی جرمنی امریکہ کے سپرد کردیے گئے تھے۔ برطانیہ ‘ فرانس ‘ اسپین ‘ پرتگال کی کالونیاں ختم کرنے کا سلسلہ شروع تھا۔

برٹش انڈیا کو تقسیم کرکے پاکستان کو امریکہ نے 20 لاکھ پنجابی مروا کر اور 2 کروڑ پنجابی اجاڑ کر ‘ مسلمان پنجابیوں کو سیکولر پنجابی کے بجائے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر مسلمان قوم پرست بنا کر ‘ اسلام کی سربلندی کے مشن اور اسلام کے قلعے پاکستان کی حفاظت پر لگا کر ‘ سوویت یونین کو بحر ھند تک پہنچنے سے روکنے جبکہ جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں کمیونزم کا مقابلہ اِسلام اِزم سے کرنے کے لیے بنایا تھا۔

ونسٹن چرچل ایک کنزرویٹو تھا۔ وہ 1947 تک برطانیہ کا وزیر اعظم رھا۔ 1947 میں اقتدار کی منتقلی ھوئی تو لیبر پارٹی کے کلیمنٹلی اٹلی نے ان کی جگہ لی تھی۔ لیکن ونسٹن چرچل ​​کو برٹش انڈیا کی تقسیم کا منصوبہ تیار کرنے کا موجد قرار دیا جاتا ھے۔ لارڈ آرچیبالڈ ویول نے 1945 میں ونسٹن چرچل کے کہنے پر ھندوستان کو تقسیم کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔ جبکہ کلیمنٹلی اٹلی نے اس منصوبے کو منظور کیا۔ ونسٹن چرچل کی رائے تھی کہ؛ اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا پاکستان مغرب کا وفادار دوست رھے گا۔ جبکہ کیمونسٹ سوویت یونین اور سوشلسٹ انڈیا کے خلاف اسلام ازم کی بنیاد پر کردار ادا کرے گا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران وزیر اعظم رھنے والے ونسٹن چرچل نے تقسیم کیے بغیر برٹش انڈیا کو آزاد کرنے کی شدید مخالفت کی تھی۔ ان کا تجزیہ تھا کہ؛ جواھر لال نہرو سوویت یونین کا حامی ھے۔ اس لیے امکان ھے کہ وہ سوویت یونین کو گرم پانی تک پہنچانے کے لیے کراچی کی بندرگاہ تک پہنچنے کی سہولت دے گا۔ اس کے نتیجے میں سوویت یونین کو بحر ھند اور مشرق وسطی تک پہنچنے کا ایک آسان راستہ مل جائے گا۔ اس کے برعکس پاکستان کا مطالبہ کرنے والی مسلمان قیادت مغرب کی حامی ھے۔ اس لیے اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے پاکستان کی مسلمان قیادت کمیونزم بمقابلہ اسلام ازم کی بنیاد پر ماسکو کے خلاف مزاحمت کرے گی۔

پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی آبادی بنگالی ھونے کی وجہ سے پاکستان کا گورنر جنرل بنگالی اور پاکستان کی دوسری بڑی آبادی پنجابی ھونے کی وجہ سے پاکستان کا وزیر اعظم پنجابی بنانے کے بجائے پاکستان کا گورنر جنرل گجراتی محمد علی جناح کو اور پاکستان کا وزیرِ اعظم اترپردیش کے لیاقت علی خان کو بنوا دیا گیا۔

اتر پردیش میں واقع علیگڑہ مسلم یونیورسٹی ‘ دارالعلوم دیو بند ‘ دار العلوم ندوة العلماء اور بریلوی مدرسوں سے فارغ التحصیل اردو بولنے والے ھندوستانی مسلمان مغربی پاکستان لاکر پاکستان کی حکومت ‘ بیوروکریسی ‘ سیاست ‘ صحافت پر قابض کروا کر اور پاکستان کی سرکاری زبان اردو بنا کر پاکستان پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی ‘ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی گرفت مظبوط کروا کر انہیں کمیونزم کا مقابلہ اِسلام اِزم سے کرنے پر لگا دیا۔

برٹش انڈیا کو تقسیم کرکے پاکستان اور بھارت کا قیام ھونے کے بعد پاکستان نے امریکہ اور بھارت نے سوویت یونین کے کیمپ میں شمولیت اختیار کی۔ سوویت یونین نے افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب برپا کرکے جبکہ پاکستان میں پٹھانوں کے ذریعے پشتونستان اور بلوچوں کے ذریعے آزاد بلوچستان بنوا کر بحر ھند تک پہنچنے کی کوشش شروع کردی۔

افغانستان کا ملک تاجک ‘ ازبک ‘ ترکمان ‘ ھزارہ ‘ فارسی بان قوموں کا ملک ھے۔ افغانستان کی سرحد 6 ممالک پاکستان ‘ چین ‘ تاجکستان ‘ ازبکستان ‘ ترکمانستان ‘ ایران کے ساتھ ملتی ھے۔ لیکن سوویت یونین کے خاتمے سے پہلے تاجکستان ‘ ازبکستان ‘ ترکمانستان کے ممالک سوویت یونین کا حصہ تھے۔

افغانستان میں تاجک ‘ ازبک ‘ ترکمان کی بڑی آبادی کے ھونے اور پشتونوں میں کمیونسٹ نظریات کو فروغ دینے میں کامیاب ھونے کی وجہ سے سوویت یونین کو افغانستان پر قابض ھونے میں کامیابی حاصل ھوگئی تھی۔ اگر سوویت یونین؛

1۔ پاکستان میں پشتونستان بنانے میں کامیاب ھو جاتا تو افغانستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب رھتا۔

2۔ پاکستان میں آزاد بلوچستان بنانے میں کامیاب ھو جاتا تو بحر ھند تک پہنچ جاتا۔

لیکن بھارت کے سوویت یونین کا اتحادی ھونے جبکہ سوویت یونین کے علاوہ بھارت کی طرف سے بھی پشتونستان اور آزاد بلوچستان کی تحریکوں میں بھرپور معاونت فراھم کرنے کے باوجود سوویت یونین؛

1۔ آزاد بلوچستان بنوا کر بحر ھند تک بھی نہ پہنچ سکا۔

2۔ پشتونستان بنوا کر افغانستان پر اپنا قبضہ بھی برقرار نہ رکھ سکا۔

خان غفار خان اور عبدالصمد اچکزئی جیسے پٹھان لیڈروں کی قیادت میں پٹھانوں نے سوویت یونین اور بھارت کی سرپرستی میں پشتونستان بنا کر سوویت یونین کے کیمپ میں جانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

خیر بخش مری اور عطا اللہ مینگل جیسے بلوچ لیڈروں کی قیادت میں بلوچوں نے سوویت یونین اور بھارت کی سرپرستی میں آزاد بلوچستان بنا کر سوویت یونین کے کیمپ میں جانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے پاکستان کی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر سیاسی قیادت نے کمیونزم کے خلاف اسلام ازم کی بنیاد پر بھرپور سیاسی مزاحمت کرکے ‘ جبکہ مسلمان پنجابی نے سوویت یونین کے خلاف فوجی طاقت کے ذریعے بھرپور جنگ لڑ کر ‘ امریکہ کی مدد کرکے ‘ سوویت یونین کو بحر ھند تک پہنچنے نہیں دیا۔ بلکہ سوویت یونین کا خاتمہ ھوگیا اور سوویت یونین کے سب سے با اثر ملک روس کے بحر ھند کے علاقے تک پہنچنے کا امکان ھی نہ رھا۔

سوویت یونین کے دسمبر 1991 میں خاتمے کے بعد کمیونزم کا بھی خاتمہ ھوگیا۔ امریکہ واحد عالمی طاقت بن گیا۔ لہٰذا اسلام ازم اور اسلام ازم کی بنیاد پر سیاست کرنے والی اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر سیاسی قیادت کی بھی ضرورت نہ رھی۔ جبکہ پاکستان کے قیام سے لیکر سوویت یونین کے خاتمے تک سیاسی طور پر “یک جان و دو قالب” رھنے والے پنجابیوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے سیاسی سفر کے راستے بھی جدا جدا ھونے لگے۔

نظریات کے بجائے مفادات پر مبنی اتحاد کے خاتمے کی ابتدا سے ‘ پاکستان کے قیام سے لیکر سوویت یونین کے خاتمے تک آپس میں حلیف رھنے والے پنجابی اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجر آپس میں حریف بننے لگے۔ بات گلے ‘ شکوے اور شکایت سے شروع ھو کر طعنوں ‘ ٹوکوں اور محاذآرائی کی طرف جانے لگی۔ یعنی “ساجھے کی ھانڈی بیچ چوک میں پھوٹنے لگی”۔ لیکن ایک تو پاکستان میں پنجابیوں کی آبادی %60 ھے۔ دوسرا پنجابیوں کو پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں مکمل بالادستی حاصل ھے۔ جبکہ ایک تو اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی پاکستان میں آبادی صرف %8 ھے۔ دوسرا سندھ کے صرف بڑے بڑے شھروں پر سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی گرفت مظبوط تھی۔

سندھ کے بڑے بڑے شھروں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی مضبوط گرفت بھی پنجابیوں کے ساتھ سیاسی طور پر “یک جان و دو قالب” ھونے کی وجہ سے تھی۔ لیکن پنجابیوں اور اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے سیاسی سفر کے راستے جدا جدا ھونے لگے تھے۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کو خوف تھا کہ سندھ میں پنجابیوں کی اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے بجائے سندھیوں کے ساتھ سیاسی ھم آھنگی ھونے کی صورت میں سندھ کے بڑے بڑے شھروں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی مضبوط گرفت ختم ھوسکتی تھی۔

پاکستان کی بدلتی ھوئی سیاسی بساط پر چونکہ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کے لیے سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے صرف سندھ کے بڑے بڑے شھر بچے تھے۔ اس لیے اردو بولنے والی ھندوستانی مھاجر سیاسی قیادت نے اسلام ازم کے بجائے مھاجر قوم پرستی کی بنیاد پر سیاست کو فروغ دینے پر دھیان دینے کی حکمت عملی اختیار کرکے سندھ کے بڑے بڑے شھروں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش شروع کردی۔

سندھ کے بڑے بڑے شھروں پر اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی بالادستی چونکہ سندھ میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ سیاسی ھم آھنگی کی وجہ سے تھی۔ لیکن سندھ کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں کی ھندوستانی مھاجروں کے ساتھ سیاسی ھم آھنگی کم ھونے اور سندھیوں کے ساتھ سیاسی ھم آھنگی بڑھنے کی وجہ سے کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ سندھ کے دیگر بڑے بڑے شھروں پر سے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی بالادستی ختم ھونے لگی۔ اس لیے اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں نے کراچی اور حیدرآباد پر مشتمل جنوبی سندھ صوبہ بنانے کی جدوجہد شروع کردی۔

سندھ کے دیہی علاقوں سے تعلیم اور روزگار کے لیے حیدرآباد منتقل ھونے کی وجہ سے حیدر آباد شھر میں بھی چونکہ سندھیوں کی آبادی ھندوستانی مھاجروں کے برابر ھوچکی ھے۔ جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں رھنے والے پنجابیوں کے ساتھ بھی سندھیوں کی سیاسی ھم آھنگی بڑھتی جا رھی ھے۔ اس لیے کراچی اور حیدرآباد پر مشتمل جنوبی سندھ صوبہ بنانے کی جدوجہد کامیاب ھونے کے امکانات نہیں ھیں۔ لہٰذا اب اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی جدوجہد کراچی کو صوبہ بنانے یا کراچی کو وفاق کے سپرد کروانے یا کراچی کے میئر کو کراچی میں واقع نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی محکموں کے بھی دفاتر کا اختیار دلوانے پر ھے۔ تاکہ کراچی میں اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی سیاسی؛ سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی ‘ اقتصادی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔ لیکن کیا کراچی میں رھنے والے سندھی ‘ بلوچ ‘ پنجابی اور پٹھان ‘ جو شھر کی آبادی کی اکثریت ھیں ‘ اردو بولنے والے ھندوستانی مھاجروں کی جدوجہد کو کامیاب ھونے دیں گے؟

(ڈاکٹر مسعود طارق کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان اور سیاسی مفکر ھیں۔ وہ پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PMSF) سندھ کے سینئر نائب صدر ‘ میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے کونسلر ‘ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اور سندھ کابینہ کے رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ھیں۔

ان کی تحقیق جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست ‘ نوآبادیاتی دور کے بعد ریاستی تشکیل ‘ علاقائی قوم پرستی اور بین النسلی سیاست جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ھے۔ جن میں خاص توجہ پنجاب ‘ پنجابی اور سرد جنگ کی اسٹریٹجک سیاست پر مرکوز ھے۔

اس کے علاوہ ‘ وہ پاکستان کو درپیش سماجی ‘ انتظامی ‘ معاشی اور اقتصادی چیلنجز پر بھی لکھتے ھیں۔ جن کے ساختی اسباب کا تجزیہ کرتے ھوئے پالیسی پر مبنی حل تجویز کرتے ھیں۔ ان کا کام تاریخی تحقیق کے تجزیے سے عصری اسٹریٹجک اور طرز حکمرانی کو ھم آھنگ کرنے کی کوشش ھے۔)

اپنا تبصرہ لکھیں