سندھ بجٹ: معاشی ترقی کیلئے دور دراز علاقوں کو شہری مراکز سے جوڑا جائے: جامعہ لطیف کے تحت آن لائن سیشن

خیرپور(نمائندہ خصوصی) سندھ بجٹ 2025-2026 پر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور اور پاکستان اکنامکس فرنٹیئر (PEF) کے زیرِ اہتمام آن لائن سيشن منعقد ہوا، جس میں صوبے کے تین اہم شعبوں — تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر — پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سیشن میں معروف ماہرینِ اقتصادیات، جامعاتی ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جنہوں نے بجٹ کے اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور سندھ میں پائیدار اور جامع ترقی کے لیے پالیسی کی تجاویز پیش کیں۔

ماہر معاشیات اور سیشن کی میزبان پروفیسر ڈاکٹر نوید احمد شیخ نے بتایا کہ حکومتِ سندھ نے پانچ مختلف ٹیکسوں کو یکجا کر کے ایک سادہ نظام متعارف کروایا ہے، جس کا مقصد کاروبار میں آسانی اور ریونیو میں اضافہ ہے۔ تاہم، انہوں نے زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے پر تشویش ظاہر کی، خاص طور پر ان چھوٹے کاشتکاروں کے لیے جنہیں خوراک کی پیداواری لاگت کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان چھوٹے کاشتکاروں کو استثنیٰ نہ دیا گیا تو اس سے ضروری اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر نوید احمد شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ سازی کو “صوبائی مالیاتی ایوارڈ” کی بنیاد پر انجام دیا جانا چاہیے، جس میں اضلاع کو ان کی آمدنی، وسائل اور غربت کی شرح کے مطابق فنڈز فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کاروبار دوست اور غریب دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ترقی کا دائرہ صوبے کے پسماندہ علاقوں تک پھیلایا جا سکے۔

ماہرین نے زور دیا کہ بجٹ سازی کو “صوبائی مالیاتی ایوارڈ” کی بنیاد پر انجام دیا جانا چاہیے، جس میں اضلاع کو ان کی آمدنی، وسائل اور غربت کی شرح کے مطابق فنڈز فراہم کیے جائیں۔

ڈاکٹر اسامہ احسن خان، جو ایک ترقیاتی ماہرِ معیشت ہیں، نے سندھ میں بڑھتے ہوئے شہری و دیہی فرق کی نشان دہی کی۔ انہوں نے معیاری تعلیم میں سرمایہ کاری کو عدم مساوات کم کرنے اور گورننس بہتر بنانے کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے پنجاب کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعلیم تک مساوی رسائی میں کمی سے دیہی سندھ میں ترقی کی رفتار سست ہوئی ہے۔

ترقیاتی ماہر ڈاکٹر محمد صابر نے جامع ٹیکس اصلاحات کی سفارش کی۔ انہوں نے موجودہ ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور ایسے ٹیکس ختم کرنے پر زور دیا جو دیہی آبادی پر غیر منصفانہ بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک متوازن ٹیکس پالیسی نہ صرف آمدنی میں اضافہ کرے گی بلکہ دیہی علاقوں کو بھی معاشی دھارے میں شامل کرے گی۔

ڈاکٹر عاصم بشیر خان، جو اس وقت یونیسیف کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے آئی ایم ایف کی اصلاحات کے تحت ٹیکس پالیسی میں آنے والی ساختی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ان اصلاحات کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر مقامی حکومتوں کو فعال نہیں کیا گیا تو ان پالیسیوں کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ انہوں نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کو مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی بنیاد قرار دیا۔

پروفیسر ڈاکٹر رحیم بخش سومرو نے تعلیم کو پائیدار ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں حکومتِ سندھ نے تعلیم کے لیے 542 ارب روپے مختص کیے، جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 12 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، انہوں نے ان فنڈز کے مؤثر استعمال پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بجٹ بڑھانا کافی نہیں، اصل چیلنج اس کے درست استعمال اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری، اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے انضمام پر زور دیا۔

سیشن کے اختتام پر ماہرین کا اتفاق تھا کہ سندھ میں ترقی کے لیے موثر طرزِ حکمرانی، پالیسی میں ہم آہنگی، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کو ترجیح دی جائے، خصوصاً دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری اور اصلاحات ضروری ہیں۔

صحت کے شعبے میں ماہرین نے حکومت پر زور دیا کہ بنیادی طبی سہولیات کو مضبوط کیا جائے، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں۔ ہسپتالوں کی بہتری اور احتیاطی طبی اقدامات پر توجہ سے علاج معالجے کا مجموعی نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سیشن میں ٹرانسپورٹ اور توانائی کے نظام کی اپ گریڈیشن پر زور دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر دور دراز علاقوں کو شہری مراکز سے جوڑا جائے تو اس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور عوامی معیارِ زندگی بہتر ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں