بدین: وڈیرے کے ہاتھوں نوجوان کسان کے قتل کے خلاف ہزاروں افراد کا طویل دھرنا

بدین(انڈس ٹربیون) سندھ کے ضلع بدین میں ایک بااثر وڈیرے کے ہاتھوں نوجوان کسان کے قتل کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ پانچ روز قبل پیش آنے والے اس واقعے کے بعد جمعرات کی صبح سے بدین شہر کے پیر چوک پر ہزاروں افراد نے دھرنا دے رکھا ہے، جس کے باعث بدین–حیدرآباد روڈ اور تھر کول بلاک جانے والی مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی ہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق دھرنا پاکستان کولہی اتحاد کی اپیل پر دیا گیا ہے، جس کا مرکزی مطالبہ نوجوان کسان کیلاش کمار کولہی کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم، وڈیرے سرفراز نظامانی کی فوری گرفتاری ہے۔ احتجاج میں کولہی برادری کے مرد و خواتین سمیت بدین اور گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے سیاسی، سماجی اور قوم پرست کارکن بڑی تعداد میں شریک ہیں۔

شدید سردی میں مسلسل دھرنا

عینی شاہدین کے مطابق دھرنا جمعرات کی صبح دس بجے شروع ہوا جو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تک شدید سردی کے باوجود جاری رہا۔ مظاہرین نے سڑک پر ہی رات گزاری، جبکہ مختلف علاقوں سے لوگ دھرنے کے شرکا کے لیے کھانا، کمبل، بستر اور آگ جلانے کے لیے لکڑیاں لے کر پہنچتے رہے۔

جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب تک شدید سردی کے باوجود جاری رہا۔

بدین کے صحافی عطا چانڈیو کا کہنا ہے کہ دھرنے میں شریک افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، ’’یہ دھرنا ببرلو واقعے کے بعد ہونے والے احتجاج کی یاد دلا رہا ہے۔ اگر دھرنا مزید جاری رہا تو شرکا کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں تک جا سکتی ہے۔‘‘

رہنماؤں کے بیانات

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بدین کے سماجی رہنما ڈاکٹر عبدالعزیز میمن نے کہا کہ احتجاج کا واحد مطالبہ قاتل کی گرفتاری ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’جب تک کیلاش کولہی کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاتا، ہم یہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ ہم ایک مظلوم خاندان کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘

جئے سندھ محاذ کے مرکزی سینیئر وائس چیئرمین نواز شاہ بھاڈائی نے اس قتل کو جاگیردارانہ نظام کی عکاسی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سندھ میں مقامی اور کمزور طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملزم کو بااثر سیاسی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث گرفتاری میں تاخیر ہو رہی ہے۔

کیلاش کے قتل کے خلاف بدین شہر کے پیر چوک پر ہزاروں افراد نے دھرنا دے رکھا ہے

دھرنے میں پاکستان کولہی اتحاد کی رہنما سوڈھی کولہن، ایڈووکیٹ رام کولہی، بدین بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل امیر آزاد پنہور، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما دلبر سندھی، جے یو آئی کے رہنما حنیف خاصخیلی سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

قتل کا پس منظر

پولیس کے مطابق 25 سالہ کیلاش کولہی کو 4 جنوری کو ضلع بدین کے تھانہ تلہار کی حدود میں واقع گاؤں ڈاھو کولہی، پیرو لاشاری کے قریب فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ مقتول کے بھائی پون کولہی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت وڈیرے سرفراز نظامانی کو نامزد کیا گیا ہے۔

25 سالہ کیلاش کولہی کو 4 جنوری کو ضلع بدین کے تھانہ تلہار کی حدود میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کیلاش کولہی ایک سال قبل حساب کتاب کے تنازع پر ملزم کی زمین چھوڑ کر ایک دوسرے زمیندار کی زمین پر کام کرنے لگے تھے، جس پر ملزم ناراض تھا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ واقعے کے روز کیلاش سردی سے بچاؤ کے لیے فصل کے قریب جھونپڑی بنا رہے تھے کہ ملزم وہاں پہنچا، گالم گلوچ کی اور پسٹل سے فائرنگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔

قتل کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم سرفراز نظامانی فرار ہوگئے ہیں: پولس

انتظامیہ کا مؤقف

دھرنے کے مقام پر ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی اور ڈپٹی کمشنر یاسر بھٹی نے پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کی اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔ ایس ایس پی بدین کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ملزم کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔

تاہم مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جاتی، دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں