کراچی(ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزامینیشن (CCE-2024) کے امیدواروں کی تمام جوابی کاپیاں دوبارہ جانچ کے لیے سکھر آئی بی اے بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے معاملات کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے احتساب کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جسٹس محمد سلیم جسار کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ نے سی سی ای 2024 کے نتائج کے خلاف دائر متعدد درخواستوں کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ ایس پی ایس سی کے خلاف اقربا پروری اور جانبداری کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور کمیشن اپنی ساکھ برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث اس کا احتساب ناگزیر ہو گیا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حالیہ نتائج میں تحریری امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو انٹرویو میں ناکام قرار دیا گیا، جبکہ اوسط نمبر لینے والے بعض امیدواروں کو انٹرویو میں 95 فیصد سے زائد نمبر دے دیے گئے، جو بظاہر شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تمام امیدواروں کی جوابی کاپیاں سیل بند حالت میں وائس چانسلر سکھر آئی بی اے کے حوالے کی جائیں، جہاں متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ ان کی دوبارہ جانچ کریں۔ عدالت نے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر دوبارہ جانچ مکمل کرکے دستخط شدہ نتائج عدالت میں جمع کرائے جائیں۔
عدالت نے سندھ حکومت کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایس پی ایس سی کے معاملات کا جائزہ لے، نتائج میں مبینہ ردوبدل، نااہل امیدواروں کو کامیاب قرار دینے اور بھرتیوں کی سفارش کرنے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کرے۔
درخواست گزار امیدواروں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے سی سی ای 2024 میں شرکت کی تھی، تاہم 6 مئی کو جاری ہونے والے نتائج میں صرف 70 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 14 مئی کو سندھ ہائیکورٹ نے نتائج معطل کرتے ہوئے ایس پی ایس سی کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا تھا۔
سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل جواد ڈیرو نے درخواستوں کے قابل سماعت نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا اور تجویز دی کہ امیدواروں کی شکایات دوبارہ ایس پی ایس سی کے سامنے پیش کی جائیں، تاہم انہوں نے جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی مخالفت کی۔
عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ اگرچہ سول سروس کے امتحانات میں عام طور پر دوبارہ جانچ کی اجازت نہیں ہوتی، تاہم موجودہ معاملہ غیر معمولی نوعیت کا ہے کیونکہ عدالت کے سامنے ایس پی ایس سی کی سفارشات کے خلاف بڑی تعداد میں درخواستیں زیر سماعت ہیں، جن میں رشوت، اثر و رسوخ اور میرٹ سے ہٹ کر فیصلوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ امیدوار اپنی محنت اور مستقبل کی امیدوں کے ساتھ مقابلے کے امتحان میں شریک ہوتے ہیں، لیکن اگر انہیں منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہ ان کے ساتھ سنگین ناانصافی ہوگی۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر ایس پی ایس سی کی مبینہ بے ضابطگیوں پر کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں معاشرے میں شدید بے چینی اور انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ بعد تک ملتوی کرتے ہوئے سکھر آئی بی اے سے دوبارہ جانچ کی رپورٹ طلب کر لی۔