کاراکاس(ویب ڈیسک) لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کو چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 700 زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے نے ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے.
ملک کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے ملک بھر میں ہوائی اڈوں، ریل اور دیگر ٹرانسپورٹ سروسز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر آیا جس کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مرکز یاراکوی ریاست میں زمین سے تقریباً 22 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔
پہلے زلزلے کے صرف 39 سیکنڈ بعد دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ آیا جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔ یہ گزشتہ ایک صدی کے دوران وینزویلا میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
زلزلوں کے باعث متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جبکہ خوفزدہ شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں اور دفاتر سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
زلزلے کے جھٹکے وینزویلا کے مختلف علاقوں سمیت پڑوسی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا تک محسوس کیے گئے، جو کاراکاس سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 20 سے زائد آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن سے ملک کے شمالی ساحلی علاقوں لا گوائیرا، آراگوا، کارابوبو اور فالکون زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
زلزلے اس وقت آئے جب ملک میں جنگِ کارابوبو کی یاد میں قومی تعطیل منائی جا رہی تھی۔ یہ جنگ 1821 میں وینزویلا کی آزادی کے رہنما سائمن بولیوار کی قیادت میں ہسپانوی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف ایک فیصلہ کن فتح تھی۔
کاراکاس کے علاقے چاکاؤ کے میئر گستاوو دوکے سائیز کے مطابق ان کے علاقے میں کم از کم دو عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں جبکہ اب تک 18 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 500 سے زائد امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزارت داخلہ نے شہریوں کو ممکنہ طور پر متاثرہ عمارتوں اور گیس لائنوں کے خطرات کے پیش نظر گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ ایندھن کی ترسیل معطل ہونے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس میں بھی تعطل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دارالحکومت کے قریب واقع مائیکیتیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی زلزلے سے ہونے والے نقصان کے باعث بند کر دیا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں میٹرو اور ریل سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی ہفتے کے باقی دنوں کے لیے تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں اینٹوں اور مٹی کے بلاکس سے تعمیر کی گئی ہیں، جس کے باعث جانی و مالی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ادارے کے ابتدائی اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی مدد کے لیے امریکی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن امدادی کارروائیوں کے لیے “تیار، آمادہ اور قابل” ہے۔
علاقائی ممالک نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔ ایل سلواڈور کے صدر نائیب بکیلے نے 50 ٹن امدادی سامان اور 300 امدادی کارکن روانہ کرنے کی تیاری کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا آزین اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے بھی وینزویلا کی مدد کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
زلزلوں کے بعد ابتدائی طور پر وینزویلا اور بحیرہ کیریبین کے بعض علاقوں کے لیے سونامی وارننگ جاری کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں امریکی سونامی وارننگ سسٹم نے اس وارننگ کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ خطے میں سونامی کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔