کوئٹہ/اسلام آباد/واشنگٹن(ویب ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا پر عالمی اور قومی انسانی حقوق تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے فیصلے پر نظرثانی، شفاف قانونی کارروائی اور دونوں رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے کو منصفانہ ٹرائل کے حق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقدمہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی قوانین کو پرامن اختلافِ رائے اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ مقدمے کی کارروائی جیل کے اندر خفیہ انداز میں چلائی گئی اور استغاثہ کی جانب سے کوئی ایسا براہِ راست ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو ملزمان کو مبینہ تشدد سے جوڑتا ہو۔
ورلڈ ایکسپریشن فورم (WEXFO) نے بھی فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کی ایک پرامن وکیل کے طور پر عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں۔ فورم کے مطابق یہ مقدمہ بنیادی حقوق کے تحفظ اور آزادیِ اظہار کے لیے موجود جمہوری و قانونی گنجائش کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے بنیادی حقوق، منصفانہ سماعت اور شفاف قانونی عمل کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (IHRF) نے فیصلے کو انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کے مسائل پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ تنظیم نے مقدمے کی سماعت میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کے فقدان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفینڈرز نے بھی سزا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مقدمے کی سماعت جیل میں ہوئی جبکہ ملزمان کی قانونی ٹیم نے جیل ٹرائلز اور ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں پر شفافیت اور منصفانہ ٹرائل کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کے خلاف الزامات واپس لیے جائیں۔
ملکی سطح پر انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ وہی طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے جو مسلح سرگرمیوں کے معاملے میں اپنایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں عدالتی اور انتظامی فیصلے غیر متوازن دکھائی دیتے ہیں۔ کمیشن نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے پر فوری نظرثانی اور بلوچستان میں سیاسی مکالمے کے آغاز کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے کہا کہ قانون کی حکمرانی پر مبنی جمہوری معاشرے میں ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل، قانونی تقاضوں اور آئینی تحفظات کا حق حاصل ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ تمام قانونی کارروائیاں، بشمول اپیلیں، مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 10-اے کے مطابق انجام دی جائیں۔
انسانی حقوق تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بنیادی حقوق، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تحفظ ہی پائیدار امن، عوامی اعتماد اور جمہوری استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور دیگر انسانی حقوق کارکنوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔