لاہور:(ویب ڈیسک) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
وزیر صحت پنجاب نے حادثے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعے کے وقت ایک خاتون ٹیچر سمیت 20 سے 25 بچے ٹیوشن سینٹر میں موجود تھے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ملبے سے 5 سے 6 بچوں کو زندہ نکالا گیا، جن میں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد 2 بچوں کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا، جبکہ 4 بچے زیر علاج ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچے معمول کے مطابق ٹیوشن پڑھنے کے لیے اکیڈمی آئے ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیوشن سینٹر کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، جبکہ گراؤنڈ فلور پر بچے کلاس لے رہے تھے کہ اسی دوران چھت گر گئی۔
پولیس نے ٹیوشن سینٹر چلانے والے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق بچوں کے لیے مغفرت، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
ادھر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک رہائشی مکان میں ٹیوشن سینٹر قائم کیا گیا تھا، جہاں خستہ حال عمارت کو بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی ترجیح ملبے تلے دبے بچوں کو بحفاظت نکالنا ہے، جبکہ حادثے کی وجوہات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے.