ریاض/کراچی/انقرہ (رائٹرز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں ایک اہم مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں باہمی دفاعی تعاون، اجتماعی سلامتی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کے تحت تینوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم اعلامیے میں دفاعی تعاون کی عملی نوعیت اور ہر ملک کی ذمہ داریوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا، امن، سلامتی اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔ ترک حکام کے مطابق اس معاہدے میں شامل اجتماعی دفاع کی شق مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک یا فریق کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ باہمی دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے اور اس سے کسی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی دفاعی معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کی سلامتی کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان شریک ہوئے۔ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے مکہ مکرمہ میں عمرہ بھی ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق اس معاہدے کی سیاسی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساگر کا کہنا ہے کہ مسلم دنیا کی تین بااثر ریاستوں کا اس مرحلے پر دفاعی تعاون کے لیے اکٹھا ہونا اس بات کا اظہار ہے کہ علاقائی ممالک اپنی سلامتی کے لیے زیادہ مربوط حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس فریم ورک کو مؤثر انداز میں عملی شکل دی گئی تو یہ تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی حیثیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، سعودی عرب خلیجی خطے کی سب سے بڑی طاقت اور دنیا کے اہم تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے، جبکہ پاکستان واحد ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً ایک سال سے جاری مذاکرات کے بعد طے پایا ہے اور یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کو مزید وسعت دے گا۔ پاکستان کئی دہائیوں سے سعودی افواج کو تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ ترکیہ اور پاکستان دفاعی سازوسامان، جنگی بحری جہازوں اور تربیتی طیاروں کے تبادلے میں بھی تعاون کرتے رہے ہیں۔ 2023 میں سعودی عرب نے ترکیہ سے ڈرونز خریدنے کا معاہدہ بھی کیا تھا، جسے انقرہ نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ قرار دیا تھا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا، تاہم اس معاہدے میں پاکستان کے جوہری پروگرام یا ایٹمی دفاعی چھتری کو شامل کیے جانے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ پاکستان کی جوہری حکمت عملی بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔