خیرپور میں ”سفید سونے“ کی دریافت: سندھ کو اپنے وسائل کا کتنا حصہ ملے گا؟ صحافی اشفاق آذر نے سوال اٹھا دیا

کراچی(انڈس ٹربیون) سینئر سینئر صحافی اور تجزیہ کار اشفاق آذر کے مطابق خیرپور سے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کے ذخائر کی دریافت کی خبروں نے ایک بار پھر سندھ کے قدرتی وسائل کے استعمال اور ان کے فوائد کی تقسیم پر سوالات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیتھیم، جسے “سفید سونا” بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے قیمتی ترین معدنی وسائل میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جدید دور کی صنعتوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں، ریچارج ایبل بیٹریوں، اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور ادویہ سازی میں اس کی بڑی مانگ ہے۔

وسائل کی تقسیم اور شفافیت کے سوالات

اشفاق آذر نے سوال اٹھایا کہ سندھ سے نکلنے والی معدنیات کی رائلٹی اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا شفاف حساب عوام کے سامنے کیوں نہیں آتا۔

ان کے مطابق عام تاثر یہ ہے کہ تیل، گیس اور تھر کے کوئلے کی طرح لیتھیم کے ذخائر بھی وفاقی کنٹرول میں چلے جائیں گے، جبکہ صوبے اور مقامی آبادی کو ان کے حقیقی ثمرات محدود حد تک ہی ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وسائل کی ملکیت نہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم ہے۔

سی ایس آر اور مقامی اثرات: ترقی یا محرومی؟

اشفاق آذر نے تھر کے توانائی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 2600 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود تھر کے متعدد دیہات آج بھی بنیادی سہولیات، خصوصاً بجلی سے محروم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تھر کول بلاک-2 میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت اسکولوں، سڑکوں، آر او پلانٹس، شجرکاری اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، تاہم بلاک-1 کے حوالے سے مؤثر نگرانی اور جوابدہی کے فقدان پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

ان کے مطابق سندھ سے تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں کے بارے میں بھی یہ تاثر موجود ہے کہ مقامی آبادی کو ان وسائل سے مناسب فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

دیگر صوبوں سے موازنہ اور معدنی وسائل کی صورتحال

اشفاق آذر نے نشاندہی کی کہ پنجاب میں بھی کوئلہ، تانبا، سونا اور لوہے جیسے اہم معدنی ذخائر کی موجودگی کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرگودھا اور چنیوٹ میں معدنی وسائل کی موجودگی کے باوجود بڑے پیمانے پر کان کنی نہ ہونے پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ چنیوٹ میں کروڑوں ٹن لوہے کے ذخائر کی موجودگی کے باوجود تجارتی سطح پر کان کنی کا عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا۔

اصل سوال: وسائل کا فائدہ کس کو مل رہا ہے؟

اشفاق آذر کے مطابق سندھ کے قدرتی وسائل پر جاری بحث کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ ان وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی، رائلٹی اور ترقیاتی فوائد کی تقسیم کس طریقہ کار کے تحت کی جا رہی ہے، اور مقامی آبادی کو اس میں کتنا حصہ مل رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں