اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان میں پہلی مقامی لیتھیم صنعت کے قیام کی جانب ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنس ٹیک) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک کنویں سے دریافت ہونے والے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی بنیاد پر جیوتھرمل نمکیاتی پانی (Geothermal Brine) سے تجارتی پیمانے پر لیتھیم نکالنے کی مقامی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔
لیتھیم ایک نہایت اہم اور ہلکی دھات ہے، جسے جدید دور میں “وائٹ گولڈ” (سفید سونا) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دھات برقی گاڑیوں، موبائل فونز، لیپ ٹاپس، سولر اور ونڈ انرجی کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے والے بیٹری سسٹمز، طبی آلات اور دیگر جدید الیکٹرانک مصنوعات کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں صاف توانائی اور برقی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث لیتھیم کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خیرپور میں دریافت ہونے والے ذخائر سے تجارتی بنیادوں پر لیتھیم نکالنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو پاکستان کو اس دھات کی درآمد پر انحصار کم کرنے، بیٹری سازی اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ صنعتوں کے فروغ، نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیتھیم کی مقامی پیداوار پاکستان کو معدنی وسائل سے برآمدی آمدن بڑھانے، غیر ملکی زرمبادلہ کمانے اور قابلِ تجدید توانائی کی صنعت میں علاقائی سطح پر بہتر مقام حاصل کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ اگر اس شعبے میں تحقیق، ٹیکنالوجی اور صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دیا گیا تو مستقبل میں پاکستان عالمی لیتھیم سپلائی چین میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
حکام کے مطابق او جی ڈی سی ایل اور پنس ٹیک کے درمیان ہونے والا معاہدہ اسی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر لیتھیم نکالنے کی جدید ٹیکنالوجی تیار کی جائے گی تاکہ اس قیمتی معدنی وسیلے سے صنعتی اور اقتصادی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔