ڈاکٹر عابد میر
ایک اسٹڈی کے مطابق اے آئی اب انسانوں سے زیادہ مضامین انٹرنیٹ پہ لکھ رہی ہے۔ اس تناظر میں انسانی کی تحریری تخلیق کا مستقبل کیا ہو گا؟
اس پر چیٹ جی پی ٹی کا جواب:
یہ موضوع واقعی بہت اہم ہے — AI کے بڑھتے ہوئے کردار کے پسِ منظَر میں انسانی تحریری تخلیق کا مستقبل مختلف امکانات اور چیلنجز ساتھ لے کر سامنے آتا ہے۔ ذیل میں وہ رجحانات، امکانات اور خدشات بیان کرتی ہوں جو موجودہ اسٹڈیز اور واقعات کی روشنی میں واضح ہیں:
موجودہ تمثیلیں
ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ویب پر تقریباً نصف مضامین اب AI لکھ رہی ہیں۔
ایک اور اسٹڈی میں ChatGPT جیسے ماڈلز نے اسٹوڈنٹ آرٹیکل vs انسانی تحریر کا موازنہ کرتے ہوئے پایا کہ معیار میں فرق کم ہو رہا ہے، بعض معاملات میں AI کی تحریر انسانی تحریر کے قریب یا بہتر بھی مانی گئی ہے۔
اسی طرح، اسٹڈیوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ قاری، جب نہ جانتا ہو کہ تحریر AI کی ہے تو بہت سی تحریریں انسانی تحریر جیسی محسوس ہوتی ہیں، اور لوگوں کی قیمت ادا کرنے یا پڑھنے کا ردعمل بھی کافی برابر ہو جاتا ہے۔
انسانی تحریری تخلیق کا ممکنہ مستقبل
یہ کچھ امکانات اور ممکنہ راستے ہیں جو سامنے آ سکتے ہیں:
تخلیق کاروں کی شناخت اور فرق کی اہمیت بڑھے گی۔
جب AI تحریر آسانی سے بن جائے گی، تو “انسانی تحریر” کی نشانی بن جائے گی کہانی، منفرد لہجہ، جذباتی گہرائی، ثقافتی پسِ منظر وغیرہ میں۔ قاری وہ تحریریں زیادہ پسند کرے گا جن میں یہ پہلو نظر آتے ہیں۔
دو طرح کا بازار بن جائے گا
ایک حصہ جہاں تحریر بہت جلدی، کم قیمت اور بڑے پیمانے پر تیار کی جاتی ہے
(AI-assisted یا AI-generated)
دوسرا حصہ جہاں انسانی تخلیق، منفرد انداز اور گہرائی کی وجہ سے قیمتی سمجھی جائے گی، اور لوگ اس کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوں گے۔
تخلیقی معیار میں نئی تعریفوں کی ضرورت
“نئے خیال”, “گہرائی”, “ذائقہ”, “احساسِ ذات” جیسے معیار جو AI ابھی مکمل طور پر نہیں دہرا سکتی، وہ انسانی تحریر کا مخصوص میدان رہیں گے۔ مگر یہ معیار آیا کہ AI بھی کچھ حد تک اس طرف سعد ہو سکتا ہے، مگر ایک حد پار نہ کرے۔
تخلیق کاروں کی مہارت اور کردار بدل جائے گا
اب لکھنے والے کا کام محض الفاظ کو ترتیب دینا نہیں رہے گا، بلکہ “prompt engineering”, “editing”, “stylization”, “fact-checking” اور “voice / authenticity برقرار رکھنے” اہم ہوں گے۔
انسان کو AI کے ساتھ مل کر کام کرنا آنا چاہیے — AI جو بنائے، اس کا انتخاب، ترمیم، اور انسانی نقطۂ نظر شامل کرنا ہوگا۔
قانونی، اخلاقی اور مالی ماڈلز کی تبدیلی
تخلیق کی ملکیت (copyright), ادائیگی کے حقوق، اور “کریئیٹر ریوارڈ” کے نظام کو نئے انداز سے ترتیب دینے کی ضرورت ہوگی تاکہ AI کی مدد سے بننے والی تخلیقات میں انسانی تخلیق کار کو مناسب حصہ ملے۔
ثقافتی اثرات
تحریری زبان کا لہجہ، جو انسانی تجربے، شخصی کہانیوں اور ثقافتی پہلوؤں سے جڑا ہے، وہ شاید کم عام تحریروں میں نمایاں رہے گا۔ لوگوں کی توقعات بدلیں گی کہ مصنف کون ہے، ماحول کیسا ہے، اور وہی تحریریں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی جن میں احساسِ انسانی واضح ہو۔
خدشات
مضمونوں میں یکسانیت (homogeneity) کا خطرہ: اگر بڑی مقدار میں AI تحریر استعمال ہو جائے، تو زبان اور انداز میں تنوع کم ہو جائے گا۔
تخلیقی آزادی کا نقصان: لکھنے والے، خاص طور پر نئے یا کم تجربہ کار، AI کو ‘ماڈل’ کے طور پر استعمال کریں گے، جس سے ان کا اپنا منفرد انداز کم بنے۔
خوف از بے روزگاری: جن لوگوں کا پیشہ تحریر پر منحصر ہے، جیسے مضمون نگار، ادیب، صحافی — انہیں بازارِصفحے پر کم کام ملے۔
معیار اور درستگی کا مسئلہ: AI تحریر اکثر فیکٹس میں غلطی کر سکتی ہے یا انداز میں غیر مناسب ہو سکتی ہے، جس سے قاری کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اگر ایک مفروضہ پیش کروں: تم بطور تخلیق کار اگر کل AI-عصری دنیا میں کام کر رہے ہو، تو تمہارا فارغ وقت اور وہ حصہ جو “انسانی محسوسات” اور “انسانی تجربہ” کے اظہار سے جڑا ہو، وہ تمہاری سب سے بڑی طاقت بن جائے گا — ایسا حصہ جو مشین نہیں بھر سکتی۔
اردو ادب کے ممتاز محقق، افسانہ نگار، نقاد اور استاد، ڈاکٹر عابد میر گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے پی۔ایچ۔ڈی کی۔
اردو ادب کے ممتاز محقق، افسانہ نگار، نقاد اور استاد، ڈاکٹر عابد میر گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے پی۔ایچ۔ڈی کی۔