پاکستان میں چھ ماہ میں بچوں پر جنسی تشدد کے 1956 کیسز: ‘ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچے استحصال کا نشانہ بنے’ ساحل

سکھر(رپورٹ: تاج رند) پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال اور اغوا کے کیسز میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2025 تک کے چھ ماہ کی “ظالمانہ اعداد و شمار” پر مبنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس عرصے میں ملک بھر سے بچوں پر جنسی، جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے 1956 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ساحل کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کے خلاف سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے جرائم میں جنسی استحصال کے 950 کیسز، اغوا کے 605 کیسز، 192 بچوں کے لاپتہ ہونے کے کیسز اور 34 کم عمر شادیوں یا ونی کے کیسز شامل ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ نومولود بچوں سے متعلق 62 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں کئی بچوں کو کوڑے کے ڈھیر، فٹ پاتھوں یا دیگر عوامی مقامات پر مردہ یا زندہ چھوڑ دیا گیا۔

ساحل کی رپورٹ کے مطابق:

11 سے 15 سال کی عمر کے بچوں پر تشدد کے سب سے زیادہ 658 کیسز رپورٹ ہوئے۔

0-5 سال کے 96 بچے، 6-10 سال کے 351 اور 16-18 سال کے 400 بچے متاثر ہوئے۔

389 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر واضح نہیں کی گئی۔

جنسی استحصال کے شکار بچوں میں:

52 فیصد (1019) متاثرین لڑکیاں،

44 فیصد (875) لڑکے،

اور 3 فیصد نومولود تھے۔

مجرم قریبی یا اجنبی؟

رپورٹ کے مطابق:

49 فیصد کیسز میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے متاثرہ بچوں کے قریبی یا واقف افراد تھے،

20 فیصد کیسز میں اجنبی افراد ملوث تھے،

جبکہ 21 فیصد کیسز میں حملہ آور کی شناخت ہی نہیں ہو سکی۔

پنجاب سب سے زیادہ متاثر

رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ:

72 فیصد کیسز صرف پنجاب سے رپورٹ ہوئے،

22 فیصد سندھ سے،

جبکہ باقی 6 فیصد کیسز خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاق سے سامنے آئے۔

شہری اور دیہی علاقوں کی صورتحال

59 فیصد کیسز شہری علاقوں سے جبکہ

41 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔

پولیس میں رجسٹریشن کا عمل

83 فیصد کیسز پولیس میں رجسٹرڈ ہوئے۔

15 فیصد کیسز میں رجسٹریشن کی صورتحال واضح نہیں کی گئی،

27 کیسز پولیس میں رجسٹر ہی نہیں کیے گئے،

جبکہ ایک کیس میں پولیس نے رجسٹریشن سے انکار کر دیا۔

ساحل کا مؤقف

تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور والدین، اساتذہ و کمیونٹی کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے۔

ساحل کے ریجنل کوآرڈینیٹر برکت انصاری کے مطابق:

“ہم اس ملک کے ہر بچے کے لیے ایسا ماحول چاہتے ہیں جو ہر قسم کے تشدد، خاص طور پر جنسی تشدد سے پاک ہو۔ اس مقصد کے لیے ہم صرف ڈیٹا نہیں اکٹھا کر رہے، بلکہ قانونی اور نفسیاتی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں