قومی اسمبلی کی نشستیں 69 سے 366 تک بڑھ گئیں، لیکن اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں آج بھی دس: سکھر عوامی فورم میں تشویش کا اظہار

سکھر(نامہ نگار) مذہبی اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر سکھر میں منعقدہ ایک عوامی فورم میں مقررین نے کہا ہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی کل نشستیں آزادی کے وقت 69 سے بڑھ کر 366 ہو گئی ہیں، مگر مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص دس نشستیں آج تک نہیں بڑھائی گئیں، جو کہ ریاست کے رویے میں عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ فورم غیر سرکاری تنظیم پہل پاکستان کی جانب سے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن اور نیشنل انڈومینٹ فار ڈیموکریسی کے اشتراک سے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں مقررین نے اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنے اور منارٹی پروٹیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔

پادری منیر بشیر نے فورم میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام میں مسیحی برادری نے اہم کردار ادا کیا مگر ’’ملک بننے کے بعد ہمیں اپنے ہی گھر میں مہمان بنا دیا گیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’آج بھی اگر کوئی غیر مسلم پاکستانی نمایاں کارنامہ انجام دے تو قوم اسے قومی ہیرو تسلیم کرنے کے بجائے اس کے مسلمان ہونے کی خبریں پھیلانے میں لگ جاتی ہے۔‘‘

“پاکستان کے قیام کے وقت قومی اسمبلی کی کل 69 نشستیں تھیں، اس وقت بھی مذہبی اقلیتوں کیلئے دس نشستیں مخصوص تھیں، قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھ کر 366 ہوگئیں لیکن آج تک مذہبی اقلیتوں کی نشتیں دس سے نہیں بڑھائی گئیں، جو کہ ریاست کا مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی پر مشتمل رویہ ہے” پادری منیر بشیر نے کہا۔

پادری منیر بشیر نے 16 اگست 2023 کے جڑانوالہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ” ہم سب کو 14 اگست کا دن تو یاد ہے مگر 16 اگست کا وہ سیاہ دن یاد نہیں جس دن جڑانوالہ میں 26 چرچ اور سینکڑوں گھر جلائے گئے، اور عدالت نے یہ کہہ کر تمام ملزمان کو چھوڑ دیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔ اس سے بڑھ کر پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ اور کونسا ظلم اور ناانصافی ہوسکتی ہے؟

پہل پاکستان کے سی ای او دیدار میرانی نے کہا کہ ریاست کو قائداعظم کے اصول کے مطابق مذہب سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے۔ ’’بیوروکریسی سے لے کر صدرِ مملکت اور فوج کے سربراہ کے عہدے تک صرف اہلیت کو معیار بنایا جائے، نہ کہ مذہب کو۔‘‘

فورم کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری مذہب تبدیلی کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے، اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور آئینی سطح پر انہیں برابر کا شہری تسلیم کیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صفیہ بلوچ نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق اُس وقت سے شروع ہوئی جب قراردادِ مقاصد میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق سندھ میں ہندو بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی ’’ایک منظم صنعت‘‘ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

سماجی رہنما ارشاد سومرو نے کہا کہ توہینِ مذہب کے قوانین کو بعض گروہ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور ان کی املاک پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس رجحان کو روکنا ضروری ہے۔

سکھر نیشنل پریس کلب کے صدر تاج رند نے کہا کہ ’’ریاست کو ترقی دینی ہے تو مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ کرنا ہوگا۔ جبری مذہب تبدیلی پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کم عمر شادی کے قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

“سندھ میں کم عمر شادی کی روک تھام کیلئے چائلڈ ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 نافذ ہے، مگر ججز آج بھی شواہد ملنے کے باوجود مذہبی بنیاد پر “محمدن لا” کا حوالہ دے کر 13 سال تک کی بچیوں کو شادی کی اجازت دے رہے ہیں۔ جس سے مذہب تبدیلی کو ریاستی سطح پر فروغ مل رہا ہے”  تاج رند نے کہا۔

پہل پاکستان کے عوامی فورم میں مقررین اور شرکاء نے مطالبہ کیا پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے منارٹی پروٹیکشن کمیشن قائم کی جائے۔ جبری مذہب تبدیلی کو روم تھام کیلئے قانونسازی کی جائے۔ آئین میں ترمیم لا کر مذہبی اقلیتوں کو برابر کا شہری تسلیم کیا جائے۔

عوامی فورم سے سکھر میونسپل کارپوریشن کی رکن و پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما غزالہ انجم، پہل پاکستان کے رہنماؤں عاجز میرانی، تنزیلہ و دیگر نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں