شرم الشیخ (مصر) : مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی تاریخی امن کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور اپنے “پسندیدہ” فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خصوصی طور پر سراہا، جنہوں نے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مختلف عالمی رہنماؤں کی کوششوں سے یہ امن ممکن ہوا ہے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور پاکستان کے تعمیری کردار کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔
شہباز شریف کا خطاب: “آج تاریخ کا عظیم دن ہے”
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا:
> “آج جدید تاریخ کا ایک عظیم دن ہے، کیونکہ امن حاصل ہوا ہے اُن تھکا دینے والی کوششوں کے بعد جن کی قیادت صدر ٹرمپ نے کی، جو حقیقی معنوں میں امن کے علمبردار ہیں۔”
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا، کیونکہ انہوں نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کی بلکہ اب غزہ میں بھی جنگ بندی ممکن بنائی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے “دن رات محنت کر کے دنیا کو امن اور خوشحالی کی طرف لے جانے کا کام کیا ہے”، اور وہ اس وقت دنیا کے وہ رہنما ہیں “جن کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔”
علاقائی تعاون اور فلسطینی عوام کی حمایت
وزیراعظم شہباز شریف نے قطر، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے غزہ میں امن کے قیام کے لیے مصالحتی کردار ادا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کا فلسطینی عوام کے ساتھ سفارتی و اخلاقی تعاون غیر متزلزل ہے۔
> “ہمارا مؤقف انصاف اور انسانیت پر مبنی ہے، اور پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے ہر امن کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔”
صدر ٹرمپ سے ملاقات اور عالمی اتفاق رائے
تقریب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے علیحدہ ملاقات کی، جس میں علاقائی استحکام، کثیرالجہتی تعاون اور دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمے پر اتفاق کیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر وزیراعظم نے لکھا:
“صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور عزم کے بغیر یہ لمحہ ممکن نہ ہوتا۔ اُنہوں نے اپنی مستقل مزاجی سے ایک نسل کُشی کے باب کو بند کیا۔”
شہباز شریف نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام آزادی اور قبلہ اول “القدس الشریف” کے دارالحکومت کے ساتھ 1967ء کی سرحدوں پر مبنی آزاد ریاست کے حقدار ہیں۔
عالمی رہنماؤں کی شرکت
اس تاریخی اجلاس کی صدارت صدر ٹرمپ اور صدر السیسی نے مشترکہ طور پر کی۔
کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوئے جن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچز، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، ترک صدر رجب طیب اردوان اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم شامل ہیں۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ تاہم اسرائیل اور حماس کے نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
