سی ٹی ڈی کا عدالتی حکم ماننے سے انکار، غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کو رہائی کے بجائے دوبارہ لاپتہ کردیا گیا

کراچی (ویب ڈیسک) کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس نے عدالتی حکم کے برخلاف قومپرست رہنماؤں غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کو رہا کرنے سے انکار کر دیا اور عدالت سے رہائی کا حکم جاری ہونے کے باوجود دونوں کو بکتربند گاڑی میں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا.

اتوار کے روز سی ٹی ڈی پولیس نے دونوں رہنماؤں کو سٹی کورٹ ساؤتھ میں اسپیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا. گرفتار رہنماؤں کی جانب سے معروف وکلا — عامر نواز وڑائچ، حسیب جمالی، رشید راجڑ، حسیب پنہور اور مختیار سمائر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ غنی امان کو میمونہ اسپتال جبکہ سرمد میرانی کو گھر سے جبری طور پر حراست میں لیا گیا، بعد ازاں عوامی احتجاج کے دباؤ میں آ کر سی ٹی ڈی نے ان کی جھوٹی گرفتاری ظاہر کی.

وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کے خلاف تمام مقدمات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد مقدمات کو جعلی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور دونوں رہنماؤں کی فوری رہائی کا حکم دیا.

تاہم عدالتی فیصلے کے برخلاف سی ٹی ڈی اہلکاروں نے رہائی دینے کے بجائے دونوں کو دوبارہ اپنی تحویل میں لے لیا.

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں تفتیشی افسر نے کہا کہ “دونوں ملزمان دہشتگرد ہیں، ہم عدالت کے اس فیصلے کو نہیں مانتے، اسے چیلنج کریں گے.”

عدالتی کارروائی کے موقع پر سندھین نیشنل کانگریس کے رہنما ایڈووکیٹ محب لغاری، سارنگ جویو، اور غنی امان کی بہن سندھو امان سمیت بڑی تعداد میں قومپرست کارکنان اور وکلا عدالت کے باہر موجود تھے.

غنی امان کی بہن سندھو امان نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ان کے بھائی اور سرمد میرانی کو دورانِ حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، “غنی امان کے سر کے بال کاٹ کر انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا، وہ بہت کمزور اور زخموں سے نڈھال لگ رہے تھے.”

انہوں نے کہا، “ریاستی ادارے عوامی احتجاج اور عدالتی احکامات دونوں کو ٹھکرا رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو بے گناہ قرار دیے جانے کے باوجود عدالت سے دوبارہ اٹھا لیا گیا.”

عدالتی حکم کے باوجود رہائی نہ ہونے پر قومپرست کارکنان نے سٹی کورٹ ساؤتھ اور تین تلوار کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کیے.

سندھین نیشنل کانگریس کے چیف آرگنائزر محب آزاد ایڈووکیٹ نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ “سی ٹی ڈی کا اقدام آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت کے فیصلے کو نہ ماننا عدلیہ کی توہین اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہے.”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کو عدالتی حکم کے تحت فوری طور پر رہا کیا جائے.

واضح رہے کہ غنی امان چانڈیو کو 28 اکتوبر کو کراچی کے میمونہ اسپتال سے اور سرمد میرانی کو اگلے روز سچل گوٹھ میں ان کے گھر سے مبینہ طور پر ریاستی اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔ ان کی گمشدگی کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے، جس کے بعد ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے ہفتے کے روز پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں کی گرفتاری ہینڈ گرنیڈ سمیت ظاہر کی تھی.

اپنا تبصرہ لکھیں