غنی امان اور سرمد میرانی کو کورٹ کے احاطے سے اغوا کرنا قابل جرم عمل ہے، پولس کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے: عامر وڑائچ

کراچی (ویب ڈیسک) کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے انکشاف کہا ہے کہ گزشتہ روز قوم پرست رہنماؤں غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کو عدالت نے دفعہ 63 ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت ڈسچارج کردیا تھا، تاہم پولیس نے عدالتی احکامات پر عمل کرنے کے بجائے دونوں رہنماؤں کو کورٹ کے احاطے سے اغوا کرلیا.

اپنی فیس بوک اکاؤنٹ پر جاری کردہ ویڈیو بیان میں عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے موقع پر موجود افراد کو بتایا کہ “ہمارے قانونی مشیر کے مطابق جج صاحب کا فیصلہ غلط ہے، ہم اسے نہیں مانتے، اور کل دونوں کو اے ٹی سی کورٹ میں پیش کریں گے” جو عدالتی فیصلے کی کھلی توہین اور آئین و قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ آج (پیر کے روز) پولیس نے کسی بھی عدالت، چاہے وہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (ATC)، ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ ہو — میں غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کی کسٹڈی پیش نہیں کی، جو کہ ایک غیر قانونی، مجرمانہ اور قابلِ شرم اقدام ہے.

صدر کراچی بار نے کہا کہ پولیس کا یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی بالادستی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عدلیہ کی رٹ کو بھی چیلنج کرتا ہے.

انہوں نے آئی جی سندھ اور حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف اغوا کی ایف آئی آر درج کی جائے اور مغوی رہنماؤں کو فی الفور بازیاب کرایا جائے.

عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن پولیس کے اس غیر قانونی اور غیر آئینی عمل کی پرزور مذمت کرتی ہے اور وکلاء برادری قانون و انصاف کی بالادستی کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرے گی.

اپنا تبصرہ لکھیں