مدرسے میں مبینہ تشدد سے زخمی چھ سالہ طالبعلم جاں بحق

کراچی(رپورٹ:تاج رند) ضلع ویسٹ- کراچی میں واقع منگھوپیر کے علاقے عزیز بروہی گوٹھ میں ایک مدرسے میں مبینہ تشدد کے نتیجے میں زخمی ہونے والا چھ سالہ طالبعلم حسن رند جناح اسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔

متوفی بچے کے والد، محنت کش حبیب الرحمان رند نے انڈس ٹربیون کو بتایا کہ ان کے دونوں بیٹے، دس سالہ محمد فہد اور چھ سالہ حسن، جامعہ محمدی نامی مدرسے میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان کے مطابق 30 نومبر کو حسن سبق یاد نہ کرنے پر مدرسے کے قاری اللہ بچایا کے تشدد کا نشانہ بنا، جس دوران اس کے سر پر لکڑی کا ڈنڈا مارا گیا۔

قاری کی تشدد میں زخمی چھ سالہ حسن 43 ویں دن جان کی بازی ہار گیا

حبیب الرحمان کے مطابق اسی شام جب وہ مزدوری سے گھر واپس آئے تو حسن کو قے آ رہی تھی۔ بڑے بیٹے نے بتایا کہ مدرسے میں مارپیٹ کے بعد اس کی طبیعت خراب ہوئی۔ والد کے مطابق پہلے مقامی ڈاکٹر سے علاج کروایا گیا، تاہم اگلے دن حالت بگڑنے پر بچے کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کئی روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد پیر کے روز اس کا انتقال ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تھانہ منگھوپیر میں قاری اللہ بچایا کے خلاف مقدمہ درج کروایا، تاہم عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

دوسری جانب تھانہ منگھوپیر کے ایس ایچ او خوش نواز پتافی نے انڈس ٹربیون کو بتایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ملزم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا، تاہم عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کر دیا۔ ان کے مطابق پولیس نے ایف آئی آر میں ابتدا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 328-A اور 337-A(i) شامل کی تھیں۔

پولیس نے ایف آئی آر میں ابتدا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 328-A اور 337-A(i) شامل کی تھیں۔

ایس ایچ او کے مطابق ڈاکٹروں سے حاصل کردہ ابتدائی رائے میں یہ کہا گیا ہے کہ بچے کی موت سر پر چوٹ کے بجائے خسرہ کی وجہ سے ہوئی، تاہم حسن کی ہلاکت کے بعد اب مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی جا رہی ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش کی جائے گی۔

ادھر بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم سندھ سھائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سندھ سھائی آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے انڈس ٹربیون سے گفتگو میں کہا کہ مذہبی مدارس میں کمسن بچوں پر جسمانی اور جنسی تشدد کے بار بار سامنے آنے والے واقعات ریاستی اداروں کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق انہوں نے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اور ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی سے بھی رابطہ کر کے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ انہیں ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں