پاک۔افغان کشیدگی: اقوامِ متحدہ، چین، ایران اور سعودی عرب کی مذاکرات پر زور، ثالثی کی پیشکش

اسلام آباد/کابل (ويب ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال اور سرحدی جھڑپوں پر اقوامِ متحدہ، چین، ایران اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے، جبکہ بعض ممالک نے ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحدی تنازعات اور عسکری کشیدگی سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، اس لیے تمام اقدامات میں انسانی جانوں کے تحفظ کو مقدم رکھا جائے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سرحدی جھڑپوں اور مہلک فضائی حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے باہمی بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں۔

چین نے بھی پاکستان اور افغانستان دونوں سے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات اور تنازعات کو مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ بطور ہمسایہ اور دوست، چین اس کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور جانی نقصان پر افسردہ ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی قسم کی کشیدگی دونوں جانب نقصان کا باعث بنے گی، جبکہ دشمنی کا خاتمہ دونوں ممالک اور عوام کے بنیادی مفاد میں ہے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ چین نے اس تنازع پر اپنے ذرائع کے ذریعے ثالثی کے لیے کام کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

ایران نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت کروانے کے لیے تیار ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان، جو ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یکجہتی کو مضبوط کرنے کا مہینہ ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دونوں ممالک موجودہ اختلافات کو حسنِ ہمسائیگی اور مکالمے کے ذریعے حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو آسان بنایا جا سکے اور باہمی تفاہم و تعاون کو فروغ ملے۔

سعودی عرب نے بھی سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ٹیلی فون پر پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے گفتگو کی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار اس وقت سرکاری دورے پر سعودی عرب میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں