کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنماؤں کے اہل خانہ کی جانب سے ہفتے کے روز ہدہ جیل کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے زیرِ حراست رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے باعث اہل خانہ کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اہل خانہ نے جیل انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ حراست رہنماؤں کو اپنے اہل خانہ سے ملاقات کا فوری حق فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب ہدہ جیل کے اندر بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ حراست رہنماؤں کا فیس لیس ٹرائل کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ فیس لیس ٹرائل شفاف انصاف اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فیس لیس ٹرائل کا طریقہ کار ملزمان کے بنیادی قانونی حقوق کو متاثر کرتا ہے، اس لیے متعلقہ حکام اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لیں اور شفاف عدالتی عمل کو یقینی بنائیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کے اہل خانہ نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ زیرِ حراست افراد کو اہل خانہ سے ملاقات کا حق دیا جائے، فیس لیس ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کھلی اور شفاف عدالتی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم اور تمام باشعور طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے آئینی و قانونی حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ آج وہی رہنماؤں کے اہل خانہ احتجاج پر بیٹھے ہیں جو ماضی میں عوام کے حقوق، انصاف اور آواز کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔