کراچی (انڈس ٹربیون)کراچی سائوتھ کی فیملی کورٹ نمبر 21 کی جج فہمیدہ ساہووال نے پارس شاہ کی اہلیہ فرزانہ شاہ کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ان کی بیٹی کشف فاطمہ کی مستقل تحویل (کسٹڈی) والدہ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق مبینہ طور پر قتل ہونے والے پارس شاہ کی وفات کے بعد ان کی بیوہ فرزانہ شاہ سے ان کی کمسن بیٹی کشف فاطمہ کو الگ کر کے مسماۃ امیر ذادی نے کراچی میں فیملی کورٹ سائوتھ میں گارجین شپ کیس دائر کیا تھا اور عدالت سے گارجین سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا تھا۔
بعد ازاں فرزانہ شاہ نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر عدالت نے گزشتہ سال مقدمہ ختم کرکے فرزانہ شاہ کو مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ کیس کی باقاعدہ سماعت کے دوران شواہد مکمل ہونے کے بعد امیر ذادی نے کیس واپس لے کر بچی کو راولپنڈی منتقل کردیا، جس پر عدالت نے اسے بیٹے سمیت چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔
اب عدالت نے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے بچی کشف فاطمہ کی مستقل کسٹڈی اور گارجین شپ والدہ فرزانہ شاہ کے سپرد کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
کیس کی پیروی معروف قانون دان لطیف ابراہیم ایڈووکیٹ نے کی، جنہوں نے فرزانہ شاہ کو مفت قانونی معاونت فراہم کی۔