سندھ موسمیاتی بحالی میں عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے، مراد علی شاہ

کراچی(انڈس ٹربیون) وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایشیا پیسیفک خطہ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، رہائش کی کمی اور موسمیاتی خطرات جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہائش، جامع منصوبہ بندی اور کمیونٹی کی بنیاد پر حل کو فوری طور پر اپنایا جائے۔

کراچی میں مقامی ہوٹل میں منعقدہ تین روزہ ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 (اے پی ایس ایس ایف) کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رہائش اور انسانی آبادیاں صرف بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ نہیں بلکہ وقار، مساوات، سماجی استحکام اور موسمیاتی لچک کے بنیادی ستون ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات، بالخصوص سیلاب اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی، کا براہ راست سامنا کر چکا ہے۔ ایسے میں محفوظ رہائش اور مستحکم شہری نظام کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے، خاص طور پر کمزور اور محروم طبقات کے لیے۔

فورم میں تقریباً 1200 شرکاء نے شرکت کی، جن میں 100 کے قریب بین الاقوامی مندوبین شامل تھے۔ 41 ممالک سے تعلق رکھنے والے نمائندگان، سرکاری حکام، مالیاتی ادارے، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، سول سوسائٹی، میڈیا اور نجی شعبے کے افراد شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ نے فلپائن میں منعقدہ ایک سابقہ فورم میں سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام پیش کیا تھا، جس کے بعد کراچی میں اس فورم کی میزبانی کی منظوری دی گئی۔ ان کے مطابق ایس پی ایچ ایف کو آفات کے بعد بحالی کے عالمی معیار کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 21 لاکھ سے زائد موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن سے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہوں گے۔ پروگرام کی نمایاں خصوصیت خواتین کو گھروں اور زمین کی ملکیت دینا ہے، جس سے نہ صرف ان کا وقار بڑھ رہا ہے بلکہ مالی شمولیت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

تقریب میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار سمیت ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور سندھ کے مستفیدین پر مبنی ماڈل کو سراہا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایس پی ایچ ایف پروگرام چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن اور ذوالفقار علی بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے اصول کے مطابق شروع کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو منصوبہ ابتدا میں ناممکن دکھائی دیتا تھا، وہ اجتماعی کوششوں اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔

فورم کے دوران 26 تکنیکی نشستوں میں موسمیاتی مطابقت اور تخفیف کو مربوط کرنے، قابل پیمائش نتائج حاصل کرنے اور علاقائی تعاون کو مستحکم بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو نے کہا کہ فورم نے سندھ کو تاریخی سیلاب کے بعد اپنے تجربات عالمی سطح پر پیش کرنے اور محفوظ، جامع اور موسمیاتی ہم آہنگ آبادیوں کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کیا۔

بین الاقوامی مندوبین 14 فروری کو ٹھٹھہ، جامشورو اور حیدرآباد کا دورہ کریں گے تاکہ ایس پی ایچ ایف منصوبے کے عملی نفاذ کا مشاہدہ کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں