سکھر میں “سندھ قومی کانفرنس” ، وسائل کی لوٹ مار پر اسمبلیوں کو ذمہ دار قرار، جدوجہد تیز کرنے کا اعلان

سکھر (اسٹاف رپورٹر) سکھر میں منعقدہ سندھ قومی کانفرنس میں رہنماؤں نے سندھ کے وسائل کی لوٹ مار پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو پامال کر کے سندھ پر قبضے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش میں یہ ادارے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر شریک ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتی نظام کو مفلوج بنا کر مرضی کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں، تاہم سندھ کو بچانے اور ہر ظلم کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

سکھر پریس کلب میں سندھ ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام اور جیئے سندھ محاذ کی میزبانی میں ہونے والی سندھ قومی کانفرنس کی صدارت سندھ ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید زین شاہ نے کی۔ کانفرنس سے جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو، جسقم بشیر خان کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر نیاز کالا نی، عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما نورنبی راہوجو، جیئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زنئور، قومی عوامی تحریک کے رہنما زاہد بھنبھرو، ایڈووکیٹ شبیر شر، ظفر حسین سانگی، سندھی ادبی سنگت کے ارشاد پیرزادو، علی شیر مہر، حکیم زنگیجو اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک چلانے والے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے مختلف قوموں کے وسائل کی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے ملک مزید کمزور ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے تبدیلی کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل اور حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے سندھ کے ساتھ ناانصافیوں اور وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدار کی سیاست کے باعث سندھ کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کے نام پر سندھ کی زمینیں لی جا رہی ہیں اور غیر قانونی پورٹ اینڈ اتھارٹی بنا کر سمندر پر بھی قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پانی کے مسائل، تعلیم کی تباہ حالی، غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے جبکہ ایک کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کی سرپرستی میں منشیات کے پھیلاؤ سے نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر جسقم رہنما سید نواز علی شاہ بھاڈائی نے قراردادیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی ملک ہے جس میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب برابر کی قومی وحدتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے قومی وحدتوں کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔

قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ کے پانی کی تقسیم 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق کی جائے اور انڈس ریور سسٹم سے نئے نہری منصوبوں اور ڈیموں کی تعمیر کو روکا جائے۔ کانفرنس نے این ایف سی ایوارڈ کے آئینی تحفظ کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبوں کا بنیادی حق قرار دیا۔

کانفرنس میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ختم کرنے، مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور ہندو بچی پریا کماری کی بازیابی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ علاوہ ازیں سندھ میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر زمینوں کی الاٹمنٹ روکنے، طلبہ یونین بحال کرنے اور میرٹ کی بنیاد پر سرکاری بھرتیوں کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں کانفرنس کے شرکاء نے جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو کی قیادت میں ریلی نکالی جو ہلکی بارش کے باوجود ڈسٹرکٹ جیل سکھر کے قریب ہیمن کالا نی چوک پہنچی، جہاں کارکنوں نے شہید ہیمن کالا نی کی تصویر پر پھول نچھاور کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور سندھ کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں