کندھ کوٹ: کیمیکل دودھ کے خلاف عوامی احتجاج

کندھ کوٹ(ویب ڈیسک) کندھ کوٹ میں کیمیکل دودھ کے خلاف اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (NICVD) کے قیام کے لیے عوام نے ریفرنڈم کے دوران سراپا احتجاج کیا۔

احتجاجی جلسے سے ڈاکٹر مہر چند ظریت، غلام مصطفیٰ میرانی ایڈوکیٹ، آفتاب باجکانی، ڈاکٹر حضور بخش سومرو، ڈاکٹر سوریش، غلام رسول میرانی، اکرم باجکانی، والی ڈنو، سندھی خان اور محمد ملک پنچایت کے چوہدری چندر سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ ضلع انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور کیمیکل دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث اموات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈاکٹرز کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، اور عوام کی صحت کے لیے کوئی سہولیات موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کیمیکل دودھ کی فروخت کو فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو وہ ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے ڈھرنا دیں گے۔

دوسری جانب مقررین نے بتایا کہ کندھ کوٹ شہر جو ضلع کا ہیڈکوارٹر ہے، یہاں دل کے امراض کے لیے نہ کوئی ماہر ڈاکٹر ہے اور نہ ہی ایمرجنسی سہولیات موجود ہیں۔ ایمرجنسی کے مریضوں کو سکھر یا رحیم یار خان منتقل کیا جاتا ہے۔

مقررین نے مطالبہ کیا کہ پاکستان پیٹرولیم کندھ کوٹ گیس فیلڈ کی ایک سال کی رائلٹی کے ذریعے NICVD قائم کیا جائے تاکہ ضلع کے عوام کو دل کے امراض کے علاج کی سہولت میسر ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت کیمیکل دودھ پورے ضلع میں پھیل چکا ہے اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خطرناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں