سکر (ویب ڈیسک)سکر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے ممکنہ حملے کے خلاف عوامی تحریک ضلعی سکر نے شہر کے تیر چوک سے گھڑی گھر تک احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔
احتجاج کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی سینیئر نائب صدر نور احمد کاتیار، ایڈووکیٹ سرواڻ جتوئی، سندھیاڻي تحریک کے رہنما شمشاد بپڑ، اياز کلوڑ، فیاض سومرو، ریاض ملک، اسد اعواڻ، ذوالفقار میرانی، سرویچ سندھی، مہتاب بلو اور دیگر نے کی۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی حکومت جنگ کے بہانے راتوں رات پیٹرول 463 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر کر کے عوام پر “پیٹرول بم” برسا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی اپنی ہی عوام کے ساتھ جنگ ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث روزمرہ استعمال کی ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے، جبکہ مزدور، غریب اور عام لوگ مہنگائی کے شکنجے میں پھنستے جا رہے ہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ ملک میں زلزلے، سیلاب، کورونا یا کسی دوسرے ملک میں جنگ ہو، وفاقی حکومت ہر آفت کو اپنے منافع کا ذریعہ بنا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی لیوی ٹیکس میں سے عوام کو صرف 80 روپے کی معمولی چھوٹ دی گئی ہے، جسے پروپیگنڈا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا عوام کو گھروں میں رہنے اور پیٹرول بچانے کے نصیحتیں دے رہے ہیں، لیکن اپنی شاہانہ خرچ اور پروٹوکول پر کروڑوں روپے کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مقررین نے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر بھی تنقید کی کہ موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2 ہزار روپے ماہانہ اور 25 ایکڑ مالکان کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی کے اعلان کو صرف عوام کا احتجاج روکنے کا ڈرامہ قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سندھ کے لاکھوں کسان، مزدور، ریڑھی والے، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیور، فیکٹری ورکروں اور ماہی گیروں کو کس طرح سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
عوامی تحریک کے رہنماؤں نے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سبسڈی کے نام پر کرپشن کے منصوبے بند کیے جائیں اور تیل کی بڑھائی گئی قیمتیں فوری واپس لی جائیں۔
مقررین نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پرامن لوگوں کو اس خطرے کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔