سانگھڑ کا طالب علم ماسکو میں دو ہفتوں سے لاپتہ

سانگھڑ(انڈس ٹربیون) روس کے دارالحکومت ماسکو میں زیرِ تعلیم ضلع سانگھڑ کے شہر شاہ پور چاکر سے تعلق رکھنے والا پاکستانی طالب علم شاہنواز رخشانی گزشتہ دو ہفتوں سے لاپتہ ہے جس کے باعث خاندان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

لاپتہ طالب علم کے چچا محمود رخشانی کے مطابق عید کے روز یعنی 21 مارچ کو شاہنواز رخشانی نے اپنے گھر والوں سے ویڈیو کال پر بات چیت کی تھی تاہم اگلے روز 22 مارچ سے ان سے اچانک رابطہ منقطع ہو گیا اور اس کے بعد سے ان کا موبائل فون مسلسل بند آ رہا ہے۔

محمود رخشانی نے بتایا کہ شاہنواز کے روم میٹس کے مطابق 22 مارچ کو وہ ہاسٹل سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ انہیں اپنی والدہ کی یاد آ رہی ہے اور وہ پاکستان واپس جا رہے ہیں، تاہم اس کے بعد وہ دوبارہ ہاسٹل واپس نہیں آئے۔

انہوں نے بتایا کہ شاہنواز کے لاپتہ ہونے کے بعد خاندان کی جانب سے روس میں موجود پاکستانی سفارت خانے، پاکستان میں روسی سفارت خانے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام سے بھی رابطہ کیا گیا، تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ہاسٹل سے نکلنے کے بعد وہ کہاں گئے۔

محمود رخشانی کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ شاہنواز رخشانی کے روس جانے کے بعد ان کے نام پر کسی بھی فضائی سفر کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ملا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق 22 سالہ شاہنواز رخشانی کو ماسکو کی نیشنل ریسرچ یونیورسٹی ہائر اسکول آف اکنامکس کے شعبہ معلوماتی ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظیفہ ملا تھا جس کے بعد وہ 25 اکتوبر 2025 کو روس روانہ ہوئے تھے۔

طالب علم کی مسلسل دو ہفتوں سے گمشدگی پر اہلِ خانہ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی شاہنواز رخشانی کی گمشدگی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔

اہلِ خانہ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے صارفین نے پاکستانی سفارت خانے اور روسی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہنواز رخشانی کی تلاش کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں