نئے صوبے اور تقسیم — سندھ کی بندرگاہ پر قبضے کی عالمی سازش؟

کراچی(انڈس ٹربیون اداریہ) سندھ میں نئے صوبوں اور صوبے کی تقسیم سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں سندھ کے ساحل، بندرگاہوں اور سمندری گزرگاہوں کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سندھ کے معروف دانشور اور کالم نگار نصیر میمن نے آج سے تقریباً پانچ ماہ قبل اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ساحلی علاقوں کے مستقبل اور بدلتی عالمی بحری حکمتِ عملی کی جانب توجہ دلائی تھی۔

نصیر میمن نے 20 مارچ کو اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا:

”آبنائے ہرمز کے سبق کے بعد دنیا کی طاقتیں سمندری گزرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے بارے میں نئے سرے سے سوچیں گی اور اپنی حکمتِ عملیاں تشکیل دیں گی۔ ساحلی علاقوں کی اہمیت مزید بڑھے گی اور ان کے حوالے سے نئی پالیسیاں اور منصوبہ بندیاں سامنے آئیں گی۔ ہمارے پاس بھی ایک ساحل ہے، اور ہمیں اس کی اہمیت، تحفظ اور مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔“

یہ مختصر تحریر ایسے وقت میں دوبارہ اہمیت اختیار کر رہی ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی تقسیم اور بالخصوص سندھ کی جغرافیائی وحدت سے متعلق سیاسی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔

سندھ کا ساحل کیوں اہم ہے؟

سندھ کا ساحلی خطہ صرف ایک جغرافیائی پٹی نہیں بلکہ پاکستان کی بحری، تجارتی اور معاشی اہمیت کا بنیادی حصہ ہے۔ کراچی کی بندرگاہیں، صنعتی و تجارتی مراکز، سمندری راستے اور سندھ کا بحیرۂ عرب سے جڑا وسیع ساحلی خطہ ملکی معیشت اور علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر سمندری تجارت، توانائی کی ترسیل اور اہم بحری گزرگاہوں کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافے کے باعث ساحلی علاقوں کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں سندھ کے ساحل اور بندرگاہوں کے مستقبل کو محض صوبائی سیاست کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے وسیع تر جغرافیائی اور معاشی تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پانچ ماہ قبل کی تحریر، آج کا سوال

نصیر میمن کی مارچ میں کی گئی نشاندہی کو موجودہ سیاسی صورتحال کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: کیا سندھ کی انتظامی یا جغرافیائی تقسیم کی بحث کے ممکنہ معاشی، بحری اور ساحلی اثرات پر بھی غور کیا جا رہا ہے؟

یہ سوال اپنی جگہ ایک تجزیاتی سوال ہے، جبکہ کسی عالمی سازش یا مخصوص طاقت کے منصوبے کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے۔ تاہم سندھ کے ساحل، بندرگاہوں اور سمندری وسائل کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس امر کی متقاضی ہے کہ سندھ کے مستقبل سے متعلق ہر بحث میں ساحلی اور بحری مفادات کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔

نصیر میمن کی پانچ ماہ پرانی تحریر آج ایک نئے سوال کے ساتھ دوبارہ سامنے آ رہی ہے:
اگر آنے والے برسوں میں دنیا کی نظریں سمندری گزرگاہوں اور ساحلوں پر مزید مرکوز ہونے والی ہیں تو سندھ کے ساحل، بندرگاہ اور سمندری وسائل کے تحفظ کی حکمتِ عملی کیا ہوگی؟

اپنا تبصرہ لکھیں