چار سال میں 3 ہزار سے زائد افراد کا قتل، سکیورٹی ادارے اور ریاست ذمہ دار ہیں: سکھر میں جے یو آئی کا امن جرگہ

سکھر(رپورٹ: تاج رند)  جمعیت علماء اسلام (ف) سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے ہیں، جس کی ذمہ دار حکومت، ریاست اور سکیورٹی ادارے ہیں۔

 سندھ میں اغوا انڈسٹری اور قبائلی دہشتگری کے خلاف پیر کے روز سکھر کے نجی ہوٹل میں جے یو آئی سندھ کے امیر مولانا عبدالقیوم ہالہجوی کی زیر صدارت سرداروں کا “سندھ امن جرگہ” کا انعقاد کیا گیا۔

جرگے میں جے یو آئی سندھ کے رہنماؤں مولانا راشد محمود سومرو، مولانا سراج احمد امروٹی، ڈاکٹر اے جی انصاری، مولانا محمد صالح انڈھر سمیت گذشتہ عام انتخابات میں جے یو آئی میں شامل ہونے والے سابق ایم این اے ڈاکٹر محمد ابرہیم جتوئی، سابق صوبائی وزیر آغا تیمور پٹھان، شاہ زین بجارانی اور تیغو تیغانی سمیت دو درجن سے زائد چھوٹے بڑے سرداروں نے شرکت کی۔ جبکہ سندھ کے حکمران جماعت سے وابستہ کسی سردار نے جرگے میں شرکت نہیں کی۔

چار گھنٹے طویل جرگے میں پہلے تو صحافیوں کو کوریج سے روکا گیا تاہم آدھی کارروائی کے بعد صحافیوں کو جرگے میں بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔

جرگے کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ کے سکھر اور لاڑکانہ ریجن میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، دونوں ڈویژنز میں باضابطہ اغوا انڈسٹری چل رہی ہے۔ اور دونوں ڈویژنز کے تمام اضلاع نوگو ایریاز بن چکے ہیں۔ جبکہ نواب شاہ، حیدرآباد اور کراچی میں اسٹریم کرائم انتہا تک پہنچی ہے۔ اور کرائم ریکوری کا کوئی نام ہی نہیں ۔

“بزرگ تو بزرگ، نوجوان تو نوجوان، مزدور تو مزدور لیکن اب تو معصوم بچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے، نہ صرف بچوں کو اغوا کیا جاتا ہےکشمور سے اغوا کی گئی چار سالہ بچی کا ریپ بھی کیا گیا” مولانا راشد سومرو نے جرگے کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا۔

مولانا راشد سومرو نے کہا کہ عید کے دن ضلعہ شکارپور کے گڑھی یاسین شہر سے دو بچوں کو اغوا کیا گیا جو کہ تاحال ڈاکؤوں کی قید میں ہیں، پولیس، رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈاکوؤں کے سامنے بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس اور سرکاری اعداد و شمار کےمطابق 2010 سے 2012 تک تین سالوں میں کندھ کوٹ-کشمور 772 افراد کو قتل کیا گیا جبکہ گزشتہ چار پانچ سالوں سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔ بتایا جائے کہ آخر اس کا زمہ دار کون ہے؟

مولانا راشد محمود نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پولیس اور رینجرز پر دو سو ارب روپے خرچ کئے گئے، پورا سال ڈاکوؤں کے خلاف پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن کیا گیا، ایس ایس پی تین تین ماہ تک کچے میں بیٹھا ہوتا ہے لیکن نتائج صفر ہیں، اب ڈھونگ نہیں چلے گا۔ کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بے رحمانہ اور سفاکانہ آپریشن کیا جائے ۔

جدید ترین اسلحہ کس کی نگرانی میں بارڈر سےڈاکؤوں تک سفر کرتا ہے؟

“سندھ امن جرگہ” کا اعلامیہ بیان کرتے ہوئے مولانا راشد سومرو نے کہا کہ کچے کے ڈاکؤوں کے پاس اینٹی ایئرکرافٹ اور راکیٹ لانچرز جیسے جدید ترین ا“یسا اسلحہ موجود ہے جو کہ پولس، سرداروں اور حکومت کے پاس بھی نہیں، انٹیلیجنس ادارے جواب دیں یہ اسلحہ بارڈر سے کندھ کوٹ-کشمور، شکارپور، گھوٹکی اور سندھ کے دیگر اضلاع میں کیسے پہنچتا ہے۔ کس کی نگرانی میں یہ ہتھیار ڈاکوؤں تک پہنچتے ہیں۔

“بارڈر سے سندھ کے دور دراز اضلاع تک ریاستی اداروں کے ناک کے نیچے یہ جدید اور خطرناک ہتھیار کیسے سفر کرتے ہیں؟ ان کا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ سکیورٹی ادارے بھی وضاحت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ؛  حکومت کے ناک کے نیچے یہ معاملہ چل رہا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی سرپرستی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے”.  مولانا  راشد نے کہا۔

“سندھ امن جرگے” کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ وفاقی حکومت ہائے ویز کی حفاظت کی زمہ داری لے، جو ہائی ویز صوبائی حکومت کی ڈومین میں ہیں صوبائی حکومت ان کے حفاظت کی زمہ داری لے۔ لاڑکانہ اور سکھر سے کراچی تک دس دس جگہوں پر فی گاڑی سے 8 سو سے ہزار تک ٹول ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن ہائی ویز پر سفر کرنے والے شہریوں کی حفاظت کی زمہ داری نہیں لی جا رہی۔

سرداروں کی ڈور کسی اور کے پاس ہے؟

جے یو آئی سندھ کی جانب سے انعقاد کردہ “سندھ امن جرگہ” میں ترجمان کے مطابق ڈاکٹر محمد ابرہیم جتوئی، تیغو تیغانی، طاھر امتیاز پھلپوٹو، سکندر خان کاکیپوٹو، ظفر حسین سانگی، مظفر خان بروھی، علی مردان گھنجو، نیاز علی بھنگوار، ضیاء الدین میتلو، علی حسن ٹگڑ، غوث بخش شر، مبین خان بلو، میر محمد کھوسو، سائیں داد سولنگی، عزیز ظھیرگھمرو، حسین بخش ناریجو، لعل محمد پنھنوار، امیر علی جتوئی، آغا تیمور پٹھان،  شاہ زین بجارانی، ڈاکٹر غلام علی عباس چاچڑ، ایڈووکیٹ نورالدین چوھان، دیدار خان جتوئی، ڈاکٹر طارق ساوند و دیگر قبائلی  شخصیات شریک ہوئے۔

جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو کے مطابق انہوں نے سندھ بھر کے 130 سرداروں، نوابوں اور وڈیروں کو جرگے میں مدعو کیا تھا تاہم 106 سرداروں نے جرگے میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کے یقین دہانی کے باوجود سرداروں نے جرگے میں شرکت نہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کمزور سردار ہیں اور ان کی ڈوریں کسی اور کے پاس ہیں، مولانا راشد نے کہا کہ 30 جولائی کو ایک بار پہر امن جرگہ بلایا جائے گا اور تمام سرداران کو امن کی خاطر ایک بار پہر مدعو کیا جائے گا، اگر دوسرے امن جرگے میں بھی سرداران نہیں آئے تو ہم سمجھیں گے کہ وہ سندھ میں امن نہیں چاہتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں