کراچی: پاکستان رینجرز (سندھ) نے صوبائی حکومت سے سندھ کے 6 اضلاع میں آپریشنل انفراسٹرکچر اور رہائشی سہولیات کے قیام کے لیے 306 ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔
سرکاری خط و کتابت کے مطابق، رینجرز نے یہ زمین مٹھی (تھرپارکر)، نیوچھور (عمرکوٹ)، نارو (خیرپور)، کھپرو (سانگھڑ)، خاکی دڑو (گھوٹکی)، اور دیھ نبوبخش (لاڑکانہ) میں مانگی ہے۔ یہ خط لیفٹیننٹ کرنل محمد قیصر منصور کی جانب سے ڈی جی پاکستان رینجرز (سندھ) کی طرف سے محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ، اور دیگر متعلقہ حکام کو ارسال کیا گیا۔
درخواست کردہ زمین کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- چھاچھرو، ضلع تھرپارکر میں 16 ایکڑ
- نیوچھور، ضلع عمرکوٹ میں 50 ایکڑ
- نارو، ضلع خیرپور میں 24 ایکڑ
- کھپرو، ضلع سانگھڑ میں 71 ایکڑ
- خاکی ڈرو، ضلع گھوٹکی میں 100 ایکڑ
- دیھ نبوبخش، ضلع لاڑکانہ میں 45 ایکڑ
پاکستان رینجرز (سندھ)، وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والا نیم فوجی ادارہ ہے جو بارڈر سیکیورٹی، انسداد دہشتگردی اور پولیس کی مدد سے امن و امان برقرار رکھنے کے فرائض انجام دیتا ہے۔ رینجرز کو 1995 میں کراچی میں تعینات کیا گیا تھا، بعدازاں ان کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا دیا گیا۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں رینجرز کی تعیناتی کے وقت انفراسٹرکچر کی فراہمی کو نظرانداز کیا گیا، جسے بعد میں بورڈ آف ریونیو نے 3 جولائی 2006 کو 13 اضلاع میں مفت زمین کی منظوری دے کر حل کیا۔ بعدازاں 19 اکتوبر 2007 اور 2 جولائی 2008 کو مزید اضلاع میں زمین الاٹ کی گئی۔ موجودہ درخواست ان باقی ماندہ چھ اضلاع سے متعلق ہے۔
خط کے مطابق، بورڈ آف ریونیو کی استفسار پر مٹھی، عمرکوٹ، اور خیرپور کے ڈپٹی کمشنرز نے زمین کی دستیابی کی تصدیق کی ہے، جبکہ گھوٹکی کے ڈی سی نے جنگلات کی زمین کی نشاندہی کی ہے جسے رینجرز کو دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ عمرکوٹ کے ڈی سی نے بھی نیوچھور میں فوری الاٹمنٹ کی حمایت کی ہے۔
قبل ازیں 2022 میں رینجرز نے کراچی میں 135 ایکڑ زمین کی درخواست دی تھی تاکہ ان کی جانب سے قابض 64 سرکاری عمارتوں (148 ایکڑ) کو خالی کیا جا سکے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، اس وقت سندھ بھر میں رینجرز کے زیر استعمال 109 سرکاری عمارتیں (231 ایکڑ) ہیں، جن میں 64 عمارتیں کراچی اور 45 دیگر اضلاع میں واقع ہیں۔