اسلام آباد مذاکرات بنا نتیجے ختم، ایران اور امریکہ معاہدے پر متفق نہ ہو سکے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا۔

امریکی نائب صدر کے مطابق 16 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مذاکرات میں کئی ادوار ہوئے اور فریقین کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، تاہم ایران نے امریکی شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی لیکن پیشرفت نہ ہو سکی۔”

دوسری جانب ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے مذاکرات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایرانی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 10 اپریل کو پاکستان پہنچا اور اعلیٰ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد مذاکراتی عمل کا آغاز کیا۔

تسنیم کے مطابق 11 اپریل کو پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی وفد کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع ہوئے، جو 21 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اس دوران ایران نے متعدد تجاویز پیش کیں اور پیشرفت کی کوشش کی، تاہم امریکہ کے “غیر لچکدار” رویے اور زیادہ مطالبات کے باعث کسی مشترکہ فریم ورک پر اتفاق نہ ہو سکا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذاکرات 12 اپریل کو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے جبکہ اگلے دور کے لیے تاحال کسی تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

قبل ازیں جے ڈی وینس نے امریکہ واپسی سے قبل کہا تھا کہ “یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی ایران کے لیے ہے۔” ان کے مطابق امریکہ نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی اور لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور اس حوالے سے درکار صلاحیت حاصل نہ کرنے کی ضمانت چاہتا ہے، تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں عارضی جنگ بندی پر ممکنہ اثرات کے بارے میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں دی۔

اپنا تبصرہ لکھیں