ڈاکٹر احمد علی میمن
دنیا اس وقت ایک ایسے غیر یقینی مگر فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، جنگ، جمہوریت اور انسانی زندگی کے بنیادی تصورات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک یہ خیال عام تھا کہ سرمایہ داری، آزاد منڈی اور لبرل جمہوریت دنیا کے مستقل اور آخری ماڈل بن چکے ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا نے یہ تاثر دیا کہ اب پوری دنیا ایک ہی معاشی اور سیاسی راستے پر چلے گی، مگر اکیسویں صدی کی تیز رفتار تبدیلیوں نے اس تصور کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔
آج دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، معاشی ناہمواری، ڈیجیٹل نگرانی، مصنوعی ذہانت، عالمی جنگوں، ماحولیاتی تباہی، سیاسی انتہا پسندی اور طاقتور کارپوریشنز کے بڑھتے اثر و رسوخ نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے؟ کیا دنیا ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کی نوعیت مکمل طور پر بدل جائے گی؟
اور سب سے اہم سوال یہ کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس بدلتی ہوئی دنیا میں کہاں کھڑے ہوں گے؟
اسی تناظر میں آج دنیا بھر میں “ٹیکنو فیوڈلزم”، “پولیٹیکل کیپیٹلزم”، “پلوٹو کریٹک لوٹ مار” اور “ٹیکنو فیوچرزم” جیسے تصورات پر بحث بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ اصطلاحات صرف علمی مباحث نہیں بلکہ موجودہ عالمی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ہیں۔
اگر عام آدمی کی زبان میں سمجھا جائے تو “ٹیکنو فیوڈلزم” دراصل ایک ایسی نئی جاگیرداری ہے جہاں زمینوں کے بجائے ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز طاقت کا اصل ذریعہ بن چکے ہیں۔ ماضی میں جاگیردار کسانوں کی زمینوں، فصلوں اور زندگیوں پر کنٹرول رکھتے تھے، جبکہ آج بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانی معلومات، رویوں، خریداری، سوچ اور حتیٰ کہ جذبات تک پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا بظاہر آزادی دیتا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہی پلیٹ فارمز انسان کی توجہ، عادات اور نفسیات کو منافع کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آج ایک عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں موبائل فون، بینکنگ ایپس، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔
مگر اس سہولت کی ایک قیمت بھی ہے۔ ہر سرچ، ہر کلک، ہر تصویر اور ہر گفتگو ایک “ڈیجیٹل ڈیٹا” میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ ڈیٹا دنیا کی نئی دولت بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین کہتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں صرف زمین یا تیل کے لیے نہیں بلکہ “ڈیٹا” اور “مصنوعی ذہانت” پر کنٹرول کے لیے ہوں گی۔
اسی طرح “پولیٹیکل کیپیٹلزم” یا سیاسی سرمائے داری کا مطلب یہ ہے کہ سیاست اور سرمایہ اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں طاقتور سرمایہ دار، بڑی کارپوریشنز اور سیاسی اشرافیہ مل کر ایسے نظام تشکیل دے رہے ہیں جہاں پالیسیاں عوام کے بجائے مخصوص طبقوں کے مفادات کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں بھی یہ صورتحال واضح نظر آتی ہے۔ یہاں عام آدمی اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی بحرانوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے جبکہ طاقتور طبقے ہر بحران میں محفوظ رہتے ہیں۔
“پلوٹو کریٹک لوٹ مار” اسی صورتحال کی ایک اور شکل ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ دولت اور وسائل چند طاقتور ہاتھوں میں جمع ہوتے جائیں گے جبکہ اکثریت مسلسل کمزور ہوتی چلی جائے گی۔ دنیا بھر میں آج یہی منظر نظر آتا ہے۔
پاکستان میں بھی یہ تضاد واضح ہے۔ ایک طرف بڑے شہروں میں لگژری رہائشی منصوبے، مہنگی گاڑیاں اور اشرافیہ کی چمکتی ہوئی دنیا ہے، جبکہ دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ متوسط طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اسی دوران “ٹیکنو فیوچرزم” کا تصور سامنے آتا ہے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو مکمل طور پر بدل دے گی۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بائیو ٹیکنالوجی اور خودکار نظام معیشت، سیاست، تعلیم اور صحت سب کو متاثر کریں گے۔
مگر خدشہ یہ ہے کہ اگر ٹیکنالوجی پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری قائم رہی تو عدم مساوات مزید بڑھے گی۔ مصنوعی ذہانت لاکھوں نوکریاں ختم کر سکتی ہے، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
عالمی سطح پر یہ تبدیلیاں سیاسی رجحانات کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ قوم پرستی، معاشی تحفظ پسندی اور عوامی غصہ دنیا بھر میں نئی سیاست کو جنم دے رہا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی ایک نئی عالمی سرد جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چین کے معاشی منصوبے اور پاکستان میں سی پیک جیسے اقدامات عالمی طاقت کے توازن کو بدل رہے ہیں۔
پاکستان اس صورتحال میں ایک اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے، مگر اسے محتاط سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے۔
ملک کے اندر معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام نے عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے اور بیرونِ ملک جانے کو بہتر مستقبل سمجھتی ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کو فروغ دیا ہے، وہیں جھوٹی معلومات، نفرت اور ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سیلاب، گرمی اور پانی کی قلت جیسے مسائل اب مستقبل نہیں بلکہ حال کا حصہ ہیں۔
غزہ اور فلسطین کی صورتحال نے عالمی نظام کے دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کیا ہے، جس سے عالمی اداروں پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔
دنیا اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانا نظام کمزور ہو رہا ہے اور نیا نظام ابھی واضح نہیں۔ یہی صورتحال سیاسی اور معاشی بے یقینی کو جنم دے رہی ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم اس نئی دنیا کے لیے تیار ہیں؟
اگر پاکستان اپنی نوجوان آبادی کو تعلیم، مہارت اور مواقع فراہم کرے تو وہ عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی نوجوان مایوسی کا شکار رہے تو یہ ایک بڑا سماجی بحران بن سکتا ہے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں کامیابی انہی قوموں کا مقدر ہوگی جو علم، ٹیکنالوجی، معیشت اور ماحولیات کو سمجھ کر خود کو اس کے مطابق ڈھال سکیں۔