اسلام آباد(ویب ڈیسک)عالمی بینک نے پاکستان کو سفارش کی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی جائے اور وسائل کی تقسیم کے لیے ایسا “فِسکل ایکولائزیشن” (مالی مساوات) نظام اپنایا جائے، جس میں آبادی کے بجائے صوبوں کی مالی ضروریات اور متوقع آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بنیادی معیار بنایا جائے۔
یہ سفارش ورلڈ بینک کی رپورٹ “Strengthening Fiscal Federalism in Pakistan” میں پیش کی گئی، جسے بدھ کے روز اسلام آباد میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور لیڈ اکنامسٹ و رپورٹ کے مصنف ٹوبیاس ہاک نے جاری کیا۔
آبادی کو بنیادی معیار سے نکالنے کی تجویز
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ این ایف سی فارمولا صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم کے مقاصد پورے نہیں کر رہا، اس لیے آبادی کو بنیادی معیار بنانے کے بجائے ایسا نظام اپنایا جائے جس میں ہر صوبے کی اخراجاتی ضروریات اور اپنی آمدنی پیدا کرنے کی استعداد کو مدنظر رکھا جائے۔
ورلڈ بینک کے مطابق اس طریقہ کار سے وسائل کی زیادہ منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی اور بہتر کارکردگی دکھانے والے صوبوں کو سزا نہیں ملے گی، جبکہ ٹیکس وصولی میں بہتری کے لیے بھی مثبت مراعات پیدا ہوں گی۔
جی ایس ٹی کے بکھرے ہوئے نظام پر اعتراض
رپورٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ تقسیم شدہ نظام کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
ورلڈ بینک نے تجویز دی کہ اشیا اور خدمات پر جی ایس ٹی کی وصولی ایک مرکزی نظام کے تحت کی جائے اور بعد ازاں متفقہ فارمولے کے ذریعے صوبوں میں تقسیم کی جائے، تاہم اس کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم درکار ہوں گی۔
وفاقی خسارے کی بڑی وجہ مالیاتی ڈھانچہ قرار
رپورٹ کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو وسائل کی منتقلی میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن وفاقی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی گئی، جس کے باعث وفاق کو مستقل مالی خسارے کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2010 سے 2024 کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4 فیصد سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ وفاقی محاصل میں تقریباً 1.9 فیصد جی ڈی پی کے برابر کمی واقع ہوئی، جو تقریباً وفاقی بنیادی مالی خسارے کے برابر ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق یہی عدم توازن پاکستان کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور سرکاری قرضوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔
صوبے بھی ٹیکس وصولی میں ناکام رہے
ورلڈ بینک کے لیڈ اکنامسٹ ٹوبیاس ہاک نے کہا کہ اگرچہ وفاق ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد تک لے جانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم صوبے بھی اپنی ٹیکس آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے۔
ان کے مطابق صوبوں کی ٹیکس آمدنی گزشتہ برسوں کے دوران جی ڈی پی کے صرف 0.7 فیصد کے قریب رہی، جبکہ اس میں کم از کم 1.15 فیصد تک اضافے کی گنجائش موجود تھی۔
زرعی آمدنی اور پراپرٹی ٹیکس سے بھرپور فائدہ نہ اٹھایا جا سکا
رپورٹ میں کہا گیا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کا 20 فیصد سے زائد حصہ ہونے کے باوجود زرعی آمدنی پر مؤثر ٹیکس وصولی نہیں ہو رہی۔
اسی طرح شہری جائیداد پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف 0.13 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہے، جبکہ دیگر ممالک میں یہ شرح 0.3 سے 0.6 فیصد تک ہے۔
ورلڈ بینک نے زرعی آمدنی ٹیکس کے مؤثر نفاذ، وفاق اور صوبوں کے درمیان معلومات کے خودکار تبادلے اور پراپرٹی ٹیکس کے لیے یکساں ویلیوایشن سسٹم متعارف کرانے کی سفارش بھی کی ہے۔
وفاق اب بھی صوبائی شعبوں میں مداخلت کر رہا ہے
رپورٹ کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے باوجود وفاقی حکومت اب بھی ان شعبوں میں کام کر رہی ہے جو آئینی طور پر صوبوں کے سپرد کیے جا چکے ہیں، جس سے وسائل کا ضیاع اور جوابدہی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ مقامی حکومتیں بھی آئینی تحفظ کے باوجود مالی طور پر صوبائی حکومتوں کی محتاج ہیں، جبکہ صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈز باقاعدگی سے جاری نہیں کیے جاتے اور بلدیاتی اداروں کے اپنے ذرائع آمدن نہ ہونے کے برابر ہیں۔
تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات میں اضافہ
رپورٹ میں کہا گیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے بنیادی خدمات پر اخراجات میں اضافہ ضرور کیا، لیکن سب سے زیادہ اضافہ انتظامی اخراجات میں ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبائی حکومتوں کے مجموعی اخراجات کا تقریباً 80 فیصد حصہ اب بھی جاری اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ تعلیم اور صحت کے مقابلے میں عمومی انتظامی امور پر زیادہ وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح اضلاع میں وسائل کی تقسیم بھی غربت یا بنیادی سہولتوں کی کمی کے بجائے پرانے طریقہ کار کے مطابق کی جا رہی ہے۔
مقامی حکومتوں کا حصہ کم ہو گیا
ورلڈ بینک کے مطابق 2005 میں مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ تقریباً 10 فیصد تھا، جو کم ہو کر 2024 میں صرف 4.7 فیصد رہ گیا ہے۔
بی آئی ایس پی وفاق کے پاس رہے، مگر صوبے بھی اخراجات اٹھائیں
رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے قومی رجسٹری نظام کو وفاق کے پاس برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، تاہم کہا گیا ہے کہ چونکہ سماجی تحفظ صوبائی ذمہ داری ہے، اس لیے اس پروگرام کے اخراجات میں تمام صوبوں کو بھی حصہ ڈالنا چاہیے۔
آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی گرانٹس
ورلڈ بینک نے بتایا کہ صوبوں نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاق کو مجموعی طور پر ایک ہزار 35 ارب روپے کی گرانٹس دینے کا عندیہ دیا تھا، تاہم پنجاب نے 546 ارب روپے اور سندھ نے 260 ارب روپے کی گرانٹس واپس لے لیں، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وفاق کے لیے کسی گرانٹ کا اعلان نہیں کیا۔
کن ممالک میں ایسا نظام رائج ہے؟
ورلڈ بینک نے سفارش کی کہ پاکستان وسائل کی تقسیم کے لیے آسٹریلیا، کینیڈا، چین، نائجیریا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک کی طرز پر مالی مساواتی نظام اختیار کرے۔
رپورٹ میں مزید تجویز دی گئی کہ تعلیم، صحت، محصولات میں اضافے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، قدرتی آفات کی تیاری، بہتر حکمرانی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے جیسے شعبوں میں کارکردگی سے مشروط مالی گرانٹس بھی متعارف کرائی جائیں تاکہ صوبوں کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے عملی ترغیب مل سکے۔